(۱۳۳۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ طَہْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : کَانَتْ زَیْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَفْخَرُ عَلَی أَزْوَاجِ النَّبِیِّ -ﷺ- تَقُولُ : اللَّہُ أَنْکَحَنِی مِنَ السَّمَائِ وَفِیہَا نَزَلَتْ آیَۃُ الْحِجَابِ قَالَ فَقَعَدَ الْقَوْمُ فِی بَیْتِ النَّبِیِّ -ﷺ- ثُمَّ جَائَ فَخَرَجَ فَجَائَ وَالْقَوْمُ کَمَا ہُمْ فَرُئِیَ ذَلِکَ فِی وَجْہِہِ فَنَزَلَتْ آیَۃُ الْحِجَابِ { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُیُوتَ النَّبِیِّ إِلاَّ أَنْ یُؤْذَنَ لَکُمْ} رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ خَلاَّدِ بْنِ یَحْیَی عَنْ عِیسَی بْنِ طَہْمَانَ۔ [صحیح]
(١٣٣٦٢) انس (رض) فرماتے ہیں کہ زینب بنت جحش باقی بیویوں پر فخر کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نکاح آسمان پر کیا ہے اور ان کے بارے میں پردے کی آیت نازل ہوئی۔ راوی کہتا ہے کہ لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے پھر واپس گئے، دوبارہ نکلے تو لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ گویا آپ کے چہرے پر ناگواری کے آثار دیکھے گئے، (اس وجہ سے) پردے کی آیت نازل ہوئی : { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُیُوتَ النَّبِیِّ إِلاَّ أَنْ یُؤْذَنَ لَکُمْ }