(۱۳۳۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَیْبَانَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ : أَرْسَلَ إِلَیَّ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَدَعَانِی فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ وَہُوَ عَلَی رِمَالٍ فَقَالَ : یَا مَالِ إِنَّہُ قَدْ نَزَلَ عَلَیْنَا دَوَافٌّ مِنْ قَوْمِکَ فَخُذْ ہَذَا الْمَالَ فَاقْسِمْہُ بَیْنَہُمْ فَقُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَلِّ ذَلِکَ غَیْرِی فَقَالَ : خُذْہَا عَنْکَ أَیُّہَا الرَّجُلُ فَجَلَسْتُ فَجَائَ یَرْفَأُ فَقَالَ : ہَلْ لَکَ فِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَطَلْحَۃَ وَالزُّبَیْرِ وَسَعْدٍ قَالَ قُلْ لَہُمْ فَلْیَدْخُلُوا فَدَخَلُوا قَالَ : ہَلْ لَکَ فِی عَلِیٍّ وَعَبَّاسٍ قَالَ : قُلْ لَہُمَا فَلْیَدْخُلاَ فَدَخَلاَ وَکُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا یُکَلِّمُ صَاحِبَہُ فَلَمَّا جَلَسُوا قَالُوا : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ اقْضِ بَیْنَہُمَا وَأَرِحْہُمَا قَالَ : أَنْشُدُکُمَا اللَّہَ الَّذِی بِإِذْنِہِ تَقُومُ السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ ہَلْ عَلِمْتُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : إِنَّا لاَ نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ ۔ یَعْنِی فَقَالَ : نَعَمْ ثُمَّ قَالَ ذَلِکَ لِلآخَرِینَ فَقَالَ الْقَوْمُ نَعَمْ قَالَ وَقَالَ : إِنَّ أَمْوَالَ بَنِی النَّضِیرِ کَانَتْ مِمَّا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ مِمَّا لَمْ یُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَیْہِ بِخَیْلٍ وَلاَ رِکَابٍ فَکَانَتْ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- خَالِصَۃً یُنْفِقُ مِنْہَا عَلَی أَہْلِہِ نَفَقَۃَ سَنَۃٍ وَمَا بَقِیَ جَعَلَہُ فِی الْکُرَاعِ وَالسِّلاَحِ عُدَّۃً فِی سَبِیلِ اللَّہِ ثُمَّ ہِیَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- خَاصَّۃً۔ أَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ سُفْیَانَ مُخْتَصَرًا۔ [مسلم ۱۷۵۷]
(١٣٣٦٩) مالک بن اوس سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے میری طرف ایک آدمی بھیجا، میں آپ (رض) کے پاس آیا اور آپ ایک ڈھیرپر بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا : اے مالک ! تیری قوم کے لوگ میرے پاس دوڑے ہوتے آئے ہے، آپ یہ مال لے جائیے اور ان میں تقسیم کردیں، میں نے کہا، امیرالمومنین ! میرے علاوہ کسی دوسرے کو امیر بنادیں، انھوں نے کہا : اے شخص ! تو لے لے، میں بیٹھ گیا تو ان کا غلام یرفاء آیا اور کہا : عبدالرحمن، طلحہ، زبیر اور سعد (رض) آئے ہیں، کیا انھیں اجازت ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے کہا : ان سے کہو کہ اندر آجائیں، وہ اندر آئے۔ پھر یرفاء آیا اور کہا : حضرت علی (رض) اور عباس (رض) بھی ہیں، کیا انھیں بھی اجازت ہے ؟ کہا : انھیں کہو، اندر آجائیں، وہ دونوں اندر آئے اور ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے متعلق بات کررہا تھا، جب وہ بیٹھ گئے تو انھوں نے کہا : امیرالمومنین ! ان کے درمیان فیصلہ کیجیے اور ان پر ترس کریں، حضرت عمر (رض) نے کہا : میں تم دونوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، جس کے حکم کے ساتھ آسمانوں و زمین قائم ہیں، کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم جو صدقہ چھوڑ جائیں اس کا وارث نہیں بناتے تو انھوں نے کہا : جی ہاں، پھر دوسرے لوگوں سے پوچھا : انھوں نے بھی ہاں میں جواب دیا، پھر حضرت عمر (رض) نے کہا : بنو نضیر کے اموال جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دیے ان میں مسلمانوں نے گھوڑے اور سواریاں نہیں روکیں اور وہ حصہ خالص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تھا جسے آپ اپنے اہل و عیال پر ایک سال کے خرچ کے طور پر خرچ کرتے تھے اور جو اس سے باقی بچ جاتا اسے گھوڑوں اور اسلحہ وغیرہ پر لگا دیتے جو جہاد فی سبیل اللہ کی تیاری تھی، پھر وہ حصہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے خاص تھا۔