hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 13381

.

سنن البيهقي

13381
Sunan Al Bayhaqi
(۱۳۳۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِیِّ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : کَانَتْ أُمُّ وَلَدِ رَجُلٍ عَلَی عَہْدِ النَّبِیِّ -ﷺ- تُکْثِرُ الْوَقِیعَۃَ فِی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَتَشْتُمُہُ فَیَنْہَاہَا فَلاَ تَنْتَہِی وَیَزْجُرُہَا فَلاَ تَنْزَجِرُ۔ فَلَمَّا کَانَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ ذَکَرَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَوَقَعَتْ فِیہِ قَالَ فَلَمْ أَصْبِرْ أَنْ قُمْتُ إِلَی الْمِعْوَلِ فَأَخَذْتُہُ فَوَضَعْتُہُ فِی بَطْنِہَا ثُمَّ اتَّکَیْتُ عَلَیْہَا حَتَّی قَتَلْتُہَا قَالَ فَوَقَعَ طِفْلاَہَا بَیْنَ رِجْلَیْہَا مُلَطَّخَانِ بِالدَّمِ فَأَصْبَحْتُ فَذُکِرَ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ فَجَمَعَ النَّاسَ ثُمَّ قَالَ : أَنْشُدُ بِاللَّہِ رَجُلاً رَأَی لِلنَّبِیِّ -ﷺ- حَقًّا فَعَلَ مَا فَعَلَ إِلاَّ قَامَ ۔ قَالَ فَأَقْبَلَ الأَعْمَی یَعْنِی الْقَاتِلَ یَتَزَلْزَلُ وَذَکَرَ کَلِمَۃً قَالَ أَبُو الْحُسَیْنِ ذَہَبَتْ عَلَیَّ فَقَالَ : وَإِنْ کَانَتْ لَرَفِیقَۃً لَطِیفَۃً وَلَکِنَّہَا کَانَتْ تُکْثِرُ الْوَقِیعَۃَ فِیکَ وَتَشْتُمُکَ فَأَنْہَاہَا فَلاَ تَنْتَہِی وَأَزْجُرَہَا فَلاَ تَنْزَجِرُ فَلَمَّا کَانَ الْبَارِحَۃَ ذَکَرَتْکَ فَوَقَعَتْ فِیکَ فَلَمْ أَصْبِرْ أَنْ قُمْتُ إِلَی الْمِعْوَلِ فَوَضَعْتُہُ فِی بَطْنِہَا فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ-: اشْہَدُوا أَنَّ دَمَہَا ہَدَرٌ۔ [صحیح۔ ابوداود ۴۳۶۱]
(١٣٣٧٥) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ایک نابینا تھا، اس کی ایک لونڈی تھی، جس سے اس کی اولاد تھی اور وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالیاں بکتی اور برا بھلا کہتی تھی۔ وہ اسے منع کرتا تھا مگر نہ مانتی تھی، وہ اسے ڈانٹتا تھا وہ نہ سمجھتی تھی، ایک رات وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بدگوئی کرنے لگی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالیاں دینے لگی تو اس نابینے نے ایک برجھا لیا اور اس لونڈی کے پیٹ پر رکھ کر اس پر اپنا بوجھ ڈال دیا اور اس طرح اسے قتل کر ڈالا، اس لونڈی کے پاؤں میں ایک بچہ آگیا اس نے اس جگہ کو خون سے لت پت کردیا، جب صبح ہوئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے قتل کا ذکر کیا گیا اور لوگ اکٹھے ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سب اس آدمی کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے یہ کام کیا ہے، میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہوجائے، وہ نابینا کھڑا ہوگیا اور گردنیں پھلانگتا ہوا آیا، اس کے قدم لرز رہے تھے، حتیٰ کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آ بیٹھا اور بولا : اے اللہ کے رسول ! میں اس کا قاتل ہوں۔ یہ آپ کو گالیاں بکتی اور برا بھلا کہتی تھی، میں اسے منع کرتا تھا مگر وہ باز نہ آتی۔ میں اسے ڈانٹتا مگر وہ نہ سمجھتی، میرے اس سے دو موتیوں جیسے بچے ہیں، میرا بڑا اچھا ساتھ دینے والی تھی، گزشتہ رات جب آپ کو گالیاں دینے لگی تو میں نے چھرا لیا، اس کے پیٹ پر رکھا اور اپنا سارا بوجھ اس پر ڈال دیا اور اس کو قتل کردیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گواہ ہوجاؤ، اس لونڈی کا خون ضائع ہے۔