(۱۳۳۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- کَیْفَ کَانَتْ صَلاَۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ : مَا کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَزِیدُ فِی رَمَضَانَ وَلاَ فِی غَیْرِہِ عَلَی إِحْدَی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً یُصَلِّی أَرْبَعًا فَلاَ تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِہِنَّ وَطُولِہِنَّ ثُمَّ یُصَلِّی أَرْبَعًا فَلاَ تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِہِنَّ وَطُولِہِنَّ ثُمَّ یُصَلِّی ثَلاَثًا قَالَتْ عَائِشَۃُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ؟ فَقَالَ : یَا عَائِشَۃُ إِنَّ عَیْنَیَّ تَنَامَانِ وَلاَ یَنَامُ قَلْبِی ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الْقَعْنَبِیِّ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [بخاری ۱۱۴۷۔ مسلم ۷۳۸]
(١٣٣٨٦) ابو سالم بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں نے عائشہ (رض) سے سوال کیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز رمضان میں کیسی تھی، تو انھوں نے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چار رکعت پڑھتے نہ سوال کر ان کی خوبصورتی اور لمبائی کا، پھر چار رکعات پڑھتے اور نہ سوال کر ان کے خوبصورتی اور لمبائی کا۔ پھر تین رکعت پڑھتے۔ عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وتر پڑھنے سے پہلے سوتے نہیں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عائشہ ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل جاگتا ہے۔