(۱۳۳۸۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْمُرَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا شَرِیکُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی نَمِرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یُحَدِّثُنَا عَنْ لَیْلَۃِ أُسْرِیَ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ مَسْجِدِ الْکَعْبَۃِ : أَنَّہُ جَائَ ہُ ثَلاَثَۃُ نَفَرٍ قَبْلَ أَنْ یُوحَی إِلَیْہِ وَہُوَ نَائِمٌ فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَقَالَ أَوَّلُہُمْ ہُوَ ہُوَ وَقَالَ وَسَطُہُمْ ہُوَ خَیْرُہُمْ وَقَالَ آخِرُہُمْ خُذُوا خْیَرَہُمْ فَکَانَتْ تِلْکَ فَلَمْ یَرَہُمْ حَتَّی جَائَ ہُ لَیْلَۃً أُخْرَی فِیمَا یَرَی قَلْبُہُ وَالنَّبِیُّ -ﷺ- تَنَامُ عَیْنُہُ وَلاَ یَنَامُ قَلْبُہُ وَکَذَلِکَ الأَنْبِیَائُ عَلَیْہِمُ الصَّلاَۃُ وَالسَّلاَمُ تَنَامُ أَعْیُنُہُمْ وَلاَ تَنَامُ قُلُوبُہُمْ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ سُلَیْمَانَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ ہَارُونَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔
[بخاری ۳۵۷۰۔ مسلم ۳۵۷۰]
(١٣٣٨٧) عبداللہ بن ابو نمر کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک (رض) کو فرماتے ہوئے سنا وہ ہم کو معراج کی رات والی حدیث نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرما رہے تھے کہ تین بندے وحی کے نازل ہونے سے پہلے آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد حرام میں سوئے ہوئے تھے۔ ایک نے کہا : کیا یہ وہی ہے ؟ درمیانے نے کہا : یہ بہترین بندہ ہے۔
آخری نے کہا : اس بہترین کو پکڑ لو، یہ اس رات تھا۔ اس کے بعد میں نے ان کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ وہ دوسری رات پھر آئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھیں سوتی تھیں اور دل جاگتا تھا، اسی طرح تمام انبیاء کی آنکھیں سوتی اور دل جاگتا ہے۔