(۱۳۵۴۲) أَخْبَرَنَاأَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ الْغَازِ بْنِ رَبِیعَۃَ الْجُرَشِیُّ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَیٍّ الْکِنْدِیِّ قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّہُ بَلَغَنِی أَنَّ نِسَائً مِنْ نِسَائِ الْمُسْلِمِینَ یَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ وَمَعَہُنَّ نِسَائُ أَہْلِ الْکِتَابِ فَامْنَعْ ذَلِکَ وَحُلْ دُونَہُ۔ [صحیح]
(١٣٥٤٢) عمر بن خطاب (رض) نے ابوعبیدہ بن جراح کی طرف خط لکھا : حمدوثنا کے بعد ! مجھے یہ بات معلوم ہوئی کہ مسلمان عورتیں حمام میں نہاتی ہیں اور ان کے ساتھ اہل کتاب کی عورتیں بھی ہوتی ہیں، ان کو اس سے منع کرو اور دوسری (مسلمان عورتیں) جائز قرار دو ۔