(۱۳۵۴۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ الْغَازِ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَیٍّ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی أَبِی عُبَیْدَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّہُ بَلَغَنِی أَنَّ نِسَائً مِنْ نِسَائِ الْمُسْلِمِینَ یَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ مَعَ نِسَائِ أَہْلِ الشِّرْکِ فَانْہَ مَنْ قِبَلَکَ عَنْ ذَلِکَ فَإِنَّہُ لاَ یَحِلُّ لاِمْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَنْ یَنْظُرَ إِلَی عَوْرَتِہَا إِلاَّ أَہْلُ مِلَّتِہَا۔[صحیح]
(١٣٥٤٣) عمر بن خطاب (رض) نے ابوعبیدہ بن جراح کی طرف خط لکھا : حمدوثنا کے بعد ! مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ مسلمان عورتیں مشرک لوگوں کی بیویوں کے ساتھ حمامات میں نہاتی ہیں۔ ان کو اس سے منع کرو؛ کیونکہ کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہے جائز نہیں کہ وہ اس کی شرم گاہ دیکھے علاوہ اس عورت کے جو اس دین (ملت) سے ہو۔