(۱۳۶۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرٍ الأَشْنَانِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ یَقُولُ قُلْتُ لِیَحْیَی بْنِ مَعِینٍ : شَرِیکٌ أَحَبُّ إِلَیْکَ فِی أَبِی إِسْحَاقَ أَوْ إِسْرَائِیلَ فَقَالَ : شَرِیکٌ أَحَبُّ إِلَیَّ وَہُوَ أَقْدَمُ وَإِسْرَائِیلُ صَدُوقٌ قُلْتُ یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَحَبُّ إِلَیْکَ أَوْ إِسْرَائِیلَ قَالَ : کُلٌّ ثِقَۃٌ۔
(١٣٦٢٠) عثمان بن دارمی فرماتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین سے پوچھا : آپ کے ہاں ابواسحق کی روایات میں شریک زیادہ ثقہ ہیں یا اسرائیل ؟ انھوں نے کہا : شریک؛ کیونکہ وہ اوثق ہے اور اسرائیل صدوق، میں نے پوچھا : آپ کے ہاں یونس بن اسحق زیادہ محبوب ہیں یا اسرائیل، انھوں نے کہا : دونوں ہی ثقہ ہیں۔