hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 1365

.

سنن البيهقي

1365
Sunan Al Bayhaqi
(۱۳۶۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ قَالَ: رَأَیْتُ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ بِالرَّحَبَۃِ بَالَ قَائِمًا حَتَّی أَرْغَی ، فَأُتِیَ بِکُوزٍ مِنْ مَائٍ فَغَسَلَ یَدَیْہِ وَاسْتَنْشَقَ وَتَمَضْمَضَ وَغَسَلَ وَجْہَہُ وَذِرَاعَیْہِ ، وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ ثُمَّ أَخَذَ کَفًّا مِنْ مَائٍ فَوَضَعَہُ عَلَی رَأْسِہِ حَتَّی رَأَیْتُ الْمَائَ یَنْحَدِرُ عَلَی لِحْیَتِہِ ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَی نَعْلَیْہِ ثُمَّ أُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ فَخَلَعَ نَعْلَیْہِ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَأَمَّ النَّاسَ۔ قَالَ ابْنُ نُمَیْرٍ قَالَ الأَعْمَشُ فَحَدَّثْتُ إِبْرَاہِیمَ قَالَ: إِذَا رَأَیْتُ أَبَا ظَبْیَانَ فَأَخْبِرْنِی۔ فَرَأَیْتُ أَبَا ظَبْیَانَ قَائِمًا فِی الْکُنَاسَۃِ فَقُلْتُ: ہَذَا أَبُو ظَبْیَانَ فَأَتَاہُ فَسَأَلَہُ عَنِ الْحَدِیثِ۔ وَالْمَشْہُورُ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّہُ غَسَلَ رِجْلَیْہِ حِینَ وَصَفَ وُضُوئَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ لاَ یُخَالِفُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَأَمَّا مَسْحُہُ عَلَی النَّعْلَیْنِ فَہُوَ مَحْمُولٌ عَلَی غَسْلِ الرِّجْلَیْنِ فِی النَّعْلَیْنِ ، وَالْمَسْحُ عَلَی النَّعْلَیْنِ لأَنَّ الْمَسْحَ رُخْصَۃٌ لِمَنْ تَغَطَّتْ رِجْلاَہُ بِالْخُفَّیْنِ فَلاَ یَعْدِی بِہَا مَوْضِعَہَا ، وَالأَصْلُ وُجُوبِ غَسْلِ الرِّجْلَیْنِ إِلاَّ مَا خَصَّتْہُ سُنَّۃٌ ثَابِتَۃٌ أَوْ إِجْمَاعٌ لاَ یُخْتَلَفُ فِیہِ ، وَلَیْسَ عَلَی الْمَسْحِ عَلَی النَّعْلَیْنِ وَلاَ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ وَاحِدٌ مِنْہُمَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۲۰۰۰]
(١٣٦٦) ابوظبیان کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی بن أبی طالب کو رحبہ جگہ میں دیکھا، انھوں نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، یہاں تک کہ وہ جھاگ بن گیا، پھر پانی کا ایک برتن لایا گیا تو آپ نے اپنے ہاتھوں کو دھویا اور ناک میں پانی چڑھایا اور کلی کی پھر اپنے چہرے اور بازؤں کو دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا، پھر پانی کی ایک ہتھیلی لی اس کو اپنے سر پر رکھا یہاں تک کہ میں نے پانی کو دیکھا وہ آپ کی داڑھی پر گر رہا تھا، پھر جوتیوں پر مسح کیا پھر نماز کی اقامت کہی گئی تو اپنی جوتیاں اتاریں ، آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ (ب) اعمش کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم کو بتلایا تو انھوں نے کہا : جب تو اعمش کو دیکھے تو مجھے بتلا، میں نے اسے کناسہ میں دیکھاتو انھیں بتلایا ، انھوں نے اس سے حدیث کے متعلق سوال کیا۔ (ج) سیدنا علی (رض) سے منقول ہے کہ انھوں نے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو بیان کیا تو پاؤں دھوئے اور وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقے کے مخالف نہیں کرتے تھے۔ ان کا جوتوں پر مسح کرنا اس پر محمول ہے کہ جب پاؤں دھو کر جوتے پہنے ہوں۔ جوتوں پر مسح کی رخصت اس شخص کے لیے جس نے اپنے پاؤں موزوں سے ڈھانپے ہوں۔” اصل پاؤں دھونا ہی واجب ہے۔ البتہ ان صورتوں میں نہیں جن میں کوئی سنتِ مشھورہ یا اجماع ہو۔ اور جوتوں اور جرابوں پر مسح جائز نہیں ہے۔