(۱۳۶۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا الثِّقَۃُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَانَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تُخْطَبُ إِلَیْہَا الْمَرْأَۃُ مِنْ أَہْلِہَا فَتَشْہَدُ فَإِذَا بَقِیَتْ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ قَالَتْ لِبَعْضِ أَہْلِہَا : زَوِّجْ فَإِنَّ الْمَرْأَۃَ لاَ تَلِی عُقْدَۃَ النِّکَاحِ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَہَذَا الأَثَرُ یَدُلُّ عَلَی أَنَّ الَّذِی۔ [ضعیف]
(١٣٦٥٢) قاسم کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) کے پاس ان کے خاندان کی عورتوں کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا جاتا تو وہ اس پر گواہ بنتی، جب عقد نکاح کی باری آتی تو اپنے خاندان والوں سے کہتی تم نکاح کرو؛ کیونکہ عورت عقد نکاح منعقد نہیں کرسکتی۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ اثر ” لا نکاح الا بولی “ پر دال ہے۔