(۱۳۷۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ یُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی ابْنُ نَاجِیَۃَ وَعِمْرَانُ قَالاَ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ یُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ یَسَارٍ زَوَّجَ أُخْتَہُ رَجُلاً فَطَلَّقَہَا تَطْلِیقَۃً فَبَانَتْ مِنْہُ ثُمَّ جَائَ یَخْطُبُہَا فَأَبَی عَلَیْہِ وَقَالَ : أَفْرَشْتُکَ کَرِیمَتِی ثُمَّ طَلَّقْتَہَا ثُمَّ جِئْتَ تَخْطُبُہَا لاَ وَاللَّہِ لاَ أُزَوِّجُکَہَا وَکَانَتِ الْمَرْأَۃُ قَدْ ہَوِیَتْ أَنْ تُرَاجِعَہُ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی { وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَبَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَلاَ تَعْضُلُوہُنَّ } إِلَی آخِرِ الآیَۃِ۔ قَالَ مَعْقِلٌ : نَعَمْ أُزَوِّجُکَہَا۔ لَفْظُ حَدِیثِ خَالِدٍ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَہَّابِ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۲۳۰]
(١٣٧٥٠) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ معقل بن یسار نے اپنی بہن کا نکاح ایک آدمی سے کردیا۔ اس نے طلاق دی جس کی وجہ سے وہ اس سے جدا ہوگئی۔ پھر اس آدمی نے معقل کی بہن کو پیغام نکاح دیا تو معقل بن یسار نے انکار کردیا اور کہنے لگے : میں نے تجھے اپنی عزت کا بستر عطا کیا، پھر تو نے طلاق دے دی۔ اب پھر نکاح کا پیغام لے کر آیا ہے، اللہ کی قسم ! اب میں تیرا نکاح نہ کروں گا اور عورت بھی اس کی طرف واپسی کی خواہش مند تھی تو اللہ نے یہ آیت اتاری : { وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَبَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَلاَ تَعْضُلُوہُنَّ } [البقرۃ ٢٣٢] ” اور جب تم عورتوں کو طلاق دو وہ اپنی عدت مقررہ کو پہنچ جائیں تو تم ان کو مت روکو۔ “