(۱۳۷۵۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِیَادٍ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا ( وَمَا یُتْلَی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتَابِ فِی یَتَامَی النِّسَائِ اللاَّتِی لاَ تُؤْتُونَہُنَّ مَا کُتِبَ لَہُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْکِحُوہُنَّ) قَالَتْ : ہَذِہِ الْیَتِیمَۃُ تَکُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ ہُوَ وَلِیُّہَا لَعَلَّہَا تَکُونُ شَرِیکَتَہُ فِی مَالِہِ وَہُوَ أَوْلَی بِہَا فَیَرْغَبُ عَنْہَا أَنْ یَنْکِحَہَا وَیَعْضِلَہَا لِمَالِہَا فَلاَ یُنْکِحُہَا غَیْرَہُ کَرَاہِیَۃَ أَنْ یَشْرَکَہُ أَحَدٌ فِی مَالِہِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی عَنْ وَکِیعٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ ہِشَامٍ۔
[صحیح۔ بخاری فی مواطن کثیرہ۔ مسلم ۳۰۱۸]
(١٣٧٥١) ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں : { وَ مَایُتْلٰی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتٰبِ فِیْ یَتٰمَی النِّسَآئِ الّٰتِیْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا کُتِبَ لَھُنَّ وَ تَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ } [النساء ١٢٧] ” اور جو یتیم بچیوں کے بارے میں تم پر کتاب میں بڑھا جاتا ہے کہ وہ یتیم بچیاں تم ان کو ان کے مقرر کردہ حق مہر ادا نہیں کرتے اور تم ان سے نکاح کی رغبت رکھتے ہو۔ “ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ یہ یتیم بچی ایک آدمی کی کفالت میں تھی، وہ اس کا ولی تھا، شاید کہ وہ اس کے مال میں بھی حصہ دار تھا اور وہ اس کے مال کی چاہت رکھتا تھا لیکن اس سے نکاح کی رغبت نہ رکھتا تھا اور اس کے مال کی وجہ سے کسی دوسرے سے اس کا نکاح بھی نہ کررہا تھا کہیں دوسرا اس کے مال میں حصہ دار نہ بن جائے۔