hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 13758

.

سنن البيهقي

13758
Sunan Al Bayhaqi
(۱۳۷۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ حَدَّثَنِی ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ أَصَابَتْہُ مُصِیبَۃٌ فَلْیَقُلْ إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ اللَّہُمَّ عِنْدَکَ أَحْتَسِبُ مُصِیبَتِی فَأْجُرْنِی فِیہَا وَأَبْدِلْنِی بِہَا خَیْرًا مِنْہَا ۔ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَۃَ قُلْتُہَا فَجَعَلْتُ کُلَّمَا طَلَبْتُ أَبْدِلْنِی بِہَا خَیْرًا مِنْہَا قُلْتُ فِی نَفْسِی وَمَنْ خَیْرٌ مِنْ أَبِی سَلَمَۃَ ثُمَّ قُلْتُہَا فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُہَا بَعَثَ إِلَیْہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَخْطُبُہَا عَلَیْہِ فَقَالَتْ لاِبْنِہَا : یَا عُمَرُ قُمْ فَزَوِّجْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَزَوَّجَہُ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ وَلَیْسَ فِی رِوَایَۃِ الأَصْبَہَانِیِّ ذِکْرُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَلاَ ذِکْرُ الْعِدَّۃَ وَلَکِنْ قَالَ قَالَتْ : فَخَطَبَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ : إِنَّہُ لَیْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِیَائِی شَاہِدٌ قَالَ : إِنَّہُ لَیْسَ أَحَدٌ مِنْہُمْ شَاہِدٌ وَلاَ غَائِبٌ إِلاَّ سَیَرْضَی بِی ۔ فَقُلْتُ : یَا عُمَرُ قُمْ فَزَوِّجْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَعُمَرُ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ کَانَ عَصَبَۃً لَہَا وَذَاکَ لأَنَّ أُمَّ سَلَمَۃَ ہِیَ ہِنْدُ بِنْتُ أَبِی أُمَیَّۃَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ وَعُمَرُ ہُوَ ابْنُ أَبِی سَلَمَۃَ وَأَبُو سَلَمَۃَ اسْمُہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الأَسَدِ بْنِ ہِلاَلِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ۔ [ضعیف۔ او اصلہ فی الصحیح لغیر ہذا۔ وانظر الاروآ ۱۸۱۹]
(١٣٧٥٢) عمر بن سلمہ اپنے والد سے اور وہ ام سلمہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کو مصیبت پہنچے وہ اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھے۔ اے اللہ ! میں اپنی مصیبت پر تیری جانب سے صبر کی توفیق چاہتی ہوں۔ اس مصیبت میں مجھے اجر دے اور مجھے اس سے اچھا نعم البدل عطا فرما۔ جب ابو سلمہ فوت ہوئے تو میں نے یہ کلمات کہنے شروع کردیے۔ لیکن جب بھی میں ان کے نعم البدل کا تذکرہ کرتی تو اپنے دل میں سوچتی کہ ابو سلمہ سے بہتر کون ہوگا۔ پھر میں یہ کلمات کہتی رہی۔ جب عدت مکمل ہوگئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو پیغام نکاح دے کر بھیجا تو ام سلمہ نے اپنے بیٹے سے کہا : اے عمر ! کھڑے ہوجاؤ ۔ آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح کردیں تو انھوں نے آپ کا نکاح کردیا۔
(ب) یہ ابو عبداللہ کی حدیث ہے، لیکن اصبہانی کی روایت میں عمر بن خطاب اور عدت کا تذکرہ نہیں ہے۔ لیکن اس میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے نکاح کا پیغام دیا۔ میں نے کہا : میرے ولیوں میں سے کوئی موجود نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا : کوئی موجود یا غائب ایسا نہیں جو میرے اس نکاح پر راضی نہ ہو۔ میں نے کہا : اے عمر ! کھڑے ہوجاؤ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح کر دو ۔
شیخ فرماتے ہیں کہ عمر بن ابی سلمہ ان کا عصبہ بھی تھا۔ کیونکہ ام سلمہ کا نسب نامہ یہ ہے : ہند بنت ابی امیہ بن المغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم اور عمر یہ ابن ابی سلمہ ہیں اور ابو سلمہ کا نام عبداللہ بن عبدالاسد بن ہلال بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم تھا۔