(۱۳۷۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ اللَّیْثِ حَدَّثَنِی حُسَیْنُ بْنُ أَبِی السَّرِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْیَنَ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ سُلَیْمَانَ الأَسَدِیُّ عَنِ الْکُمَیْتِ بْنِ زَیْدٍ الأَسَدِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی مَذْکُورٌ مَوْلَی زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : خَطَبَنِی عِدَّۃٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَأَرْسَلْتُ إِلَیْہِ أُخْتِی أُشَاوِرُہُ فِی ذَلِکَ قَالَ : فَأَیْنَ ہِیَ مِمَّنْ یُعَلِّمُہَا کِتَابَ رَبِّہَا وَسُنَّۃَ نَبِیِّہَا ۔ قَالَتْ : مَنْ؟ قَالَ : زَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ ۔فَغَضِبَتْ وَقَالَتْ : تُزَوِّجُ بِنْتَ عَمِّکَ مَوْلاَکَ ثُمَّ أَتَتْنِی فَأَخْبَرَتْنِی بِذَلِکَ فَقُلْتُ أَشَدَّ مِنْ قَوْلِہَا وَغَضِبْتُ أَشَدَّ مِنْ غَضَبِہَا فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ (وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلاَ مُؤْمِنَۃٍ إِذَا قَضَی اللَّہُ وَرَسُولَہُ أَمْرًا أَنْ یَکُونَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ أَمْرِہِمْ) قَالَتْ : فَأَرْسَلْتُ إِلَیْہِ زَوِّجْنِی مَنْ شِئْتَ قَالَتْ فَزَوَّجَنِی مِنْہُ فَأَخَذْتُہُ بِلِسَانِی فَشَکَانِی إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللَّہَ ثُمَّ أَخَذْتُہُ بِلِسَانِی فَشَکَانِی إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَقَالَ أَنَا أُطَلِّقْہَا فَطَلَّقَنِی فَبَتَّ طَلاَقِی فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتِی لَمْ أَشْعُرْ إِلاَّ وَالنَّبِیُّ -ﷺ- وَأَنَا مَکْشُوفَۃُ الشَّعَرِ فَقُلْتُ : ہَذَا أَمْرٌ مِنَ السَّمَائِ وَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ بِلاَ خُطْبَۃٍ وَلاَ شَہَادَۃٍ قَالَ : اللَّہُ الْمُزَوِّجُ وَجِبْرِیلُ الشَّاہِدُ ۔
وَہَذَا وَإِنْ کَانَ إِسْنَادُہُ لاَ تَقُومُ بِمِثْلِہِ حُجَّۃٌ فَمَشْہُورٌ أَنَّ زَیْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ وَہِیَ مِنْ بَنِی أَسَدِ بْنِ خُزَیْمَۃَ وَأُمُّہَا أُمَیْمَۃُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ ہَاشِمٍ عَمَّۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- کَانَتْ عِنْدَ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ حَتَّی طَلَّقَہَا ثُمَّ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِہَا وَکَذَا فِی الْحَدِیثِ ابْنَۃُ عَمِّکَ وَالصَّوَابُ ابْنَۃَ عَمَّتِکَ۔ [ضعیف جداً]
(١٣٧٨٢) زینب بنت جحش فرماتی ہیں کہ کئی صحابہ نے مجھے نکاح کا پیغام دیا تو میں نے اپنی بہن کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مشورہ کے لیے بھیجا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اس کو کتاب اللہ اور سنت رسول کی تعلیم دے۔ کہنے لگی : وہ کون ؟ فرمایا : زید بن حارثہ تو وہ ناراض ہوگئی اور کہنے لگی : آپ اپنے چچا کی بیٹی کا نکاح اپنے غلام سے کرو گے تو زینب بنت جحش کہتی ہیں۔ میری بہن نے مجھے بتایا تو میں نے اس سے بھی سخت بات کہی اور زیادہ غصے ہوئی تو اللہ نے یہ آیت نازل کردی : { وَ مَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ } [الاحزاب ٣٦] ” اور کسی مومن مرد اور عورت کے لیے یہ لائق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کوئی فیصلہ فرما دیں تو انھیں اپنے معاملے میں اختیار ہو۔ “ کہتی ہیں : میں نے کہا : جس سے چاہو نکاح کر دو ۔ فرماتی ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے میرا نکاح کردیا، میں نے زبان درازی کی تو اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شکایت کی اور کہنے لگے : میں اس کو طلاق دیتا ہوں، انھوں نے مجھے طلاق بائنہ دے دی، جب میری عدت ختم ہوئی تو مجھے معلوم بھی نہ تھا کہ میرے کھلے ہوئے بالوں کی حالت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے۔ میں نے کہا : یہ آسمان کا معاملہ ہے۔ میں نے کہہ دیا : اے اللہ کے رسول ! بغیر خطبہ اور گواہ کے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نکاح کرنے والے اور جبرائیل گواہ ہے۔
(ب) زینب بنت جحش یہ بنو اسد بن خزیمہ سے ہیں اور ان کی والدہ امیمہ یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پھوپھی ہے اور زینب زید بن حارثہ کے نکاح میں تھی۔ جب انھوں نے طلاق دے دی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے شادی کی اور حدیث میں ابْنَۃَ عَمَّتِکَ ہے لیکن درست الفاظ ابْنَۃَ عَمَّتِکَ ہیں۔