(۱۳۸۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ عَنْ سَعِیدٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ خِلاَسٍ : أَنَّ امْرَأَۃً زَوَّجَہَا أَوْلِیَاؤُہَا بِالْجَزِیرَۃِ مِنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ الْحُرِّ وَزَوَّجَہَا أَہْلُہَا بَعْدَ ذَلِکَ بِالْکُوفَۃِ فَرَفَعُوا ذَلِکَ إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَفَرَّقَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ زَوْجِہَا الآخِرِ وَرَدَّہَا إِلَی زَوْجِہَا الأَوَّلِ وَجَعَلَ لَہَا صَدَاقَہَا بِمَا أَصَابَ مِنْ فَرْجِہَا وَأَمَرَ زَوْجَہَا الأَوَّلَ أَنْ لاَ یَقْرَبَہَا حَتَّی تَنْقَضِیَ عِدَّتُہَا۔
[حسن لغیرہ]
(١٣٨٠٩) قتادہ خلاس سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت کا نکاح جزیرہ میں عبیداللہ بن حر سے ولیوں نے کردیا اور اس کے گھر والوں نے بعد میں کوفہ میں نکاح کردیا۔ وہ فیصلہ لے کر حضرت علی کے پاس آئے تو حضرت علی (رض) نے دوسرے خاوند اور عورت کے درمیان جدائی کرا دی اور پہلے خاوند کی طرف واپس کردیا اور دوسرے کے ذمہ حق مہر ڈال دیا۔ فائدہ اٹھانے کی وجہ سے اور پہلے خاوند کو حکم دیا کہ عدت مکمل ہونے سے پہلے اس کے قریب نہ جائے۔