(۱۳۸۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : کَانَ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ یُحَدِّثُ أَنَّہُ سَأَلَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنْ قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِی الْیَتَامَی فَانْکِحُوا مَا طَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَائِ مَثْنَی وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تَعْدِلُوا فَوَاحِدَۃً أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ} قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : ہِیَ الْیَتِیمَۃُ تَکُونُ فِی حَجْرِ وَلِیِّہَا فَیَرْغَبُ فِی جَمَالِہَا أَوْ مَالِہَا وَیُرِیدُ أَنْ یَتَزَوَّجَہَا بِأَدْنَی مِنْ سُنَّۃِ نِسَائِہَا فَنُہُوا عَنْ نِکَاحِہِنَّ إِلاَّ أَنْ یُقْسِطُوا لَہُنَّ فِی إِکْمَالِ الصَّدَاقِ وَأُمِرُوا بِنِکَاحِ مِنْ سِوَاہُنَّ مِنَ النِّسَائِ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا ثُمَّ اسْتَفْتَی النَّاسُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {یَسْتَفْتُونَکَ فِی النِّسَائِ قُلِ اللَّہُ یُفْتِیکُمْ فِیہِنَّ وَمَا یُتْلَی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتَابِ فِی یَتَامَی النِّسَائِ اللاَّتِی لاَ تُؤْتُونَہُنَّ مَا کُتِبَ لَہُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْکِحُوہُنَّ} قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : بَیَّنَ اللَّہُ تَعَالَی لَہُمْ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ : أَنَّ الْیَتِیمَۃَ إِذَا کَانَتْ ذَاتَ جَمَالٍ وَمَالٍ رَغِبُوا فِی نِکَاحِہَا وَلَمْ یَلْحَقُوا بِسُنَّۃِ نِسَائِہَا فِی إِکْمَالِ الصَّدَاقِ وَإِذَا کَانَتْ مَرْغُوبًا عَنْہَا فِی قِلَّۃِ الْمَالِ تَرَکُوہَا وَالْتَمَسُوا غَیْرَہَا مِنَ النِّسَائِ ۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : فَکَمَا تَرَکُوہَا حِینَ یَرْغَبُونَ عَنْہَا فَلَیْسَ لَہُمْ أَنْ یَنْکِحُوہَا إِذَا رَغِبُوا فِیہَا إِلاَّ أَنْ یُقْسِطُوا لَہَا وَیُعْطُوہَا حَقَّہَا الأَوْفَی مِنَ الصَّدَاقِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ مسلم ۳۰۱۸]
(١٣٨١٠) عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ (رض) سے اللہ کے اس قول : { وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ مَثْنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ } [النساء ٣] ” اگر تم ڈرو کہ تم یتیم عورتوں میں انصاف نہ کرسکو گے۔ تو ان سے نکاح کرو جو تمہیں اچھی لگیں ان عورتوں میں سے دو دو اور تین تین اور چار چار۔ پس اگر ڈرو کہ تم نہ عدل کرسکو گے تو پھر ایک ہی ہے یا جس کے مالک ہوئے تمہارے داہنے ہاتھ۔ “ کے بارے میں حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : ایک یتیم بچی اپنے ولی کی پرورش میں ہو، پھر اس سے نکاح اس کی خوبصورتی یا مال کی وجہ سے کیا گیا لیکن تھوڑے حق مہر کے عوض تو انھیں نکاح سے روک دیا گیا، یعنی یتیم بچیوں سے مگر یہ کہ وہ مکمل حق مہر ادا کریں اور ان کو دوسری عورتوں سے نکاح کرنے کا حکم دیا گیا۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ پھر لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مسئلہ پوچھا تو اللہ نے یہ آیت نازل کردی : { وَ یَسْتَفْتُوْنَکَ فِی النِّسَآئِ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِیْھِنَّ وَ مَایُتْلٰی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتٰبِ فِیْ یَتٰمَی النِّسَآئِ الّٰتِیْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا کُتِبَ لَھُنَّ وَ تَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ } [النساء ١٢٧] ” اور فتویٰ پوچھتے ہیں آپ سے عورتوں کے بارے میں جو کتاب میں تمہارے اوپر پڑھا جاتا ہے۔ جن کو تم ان کا مقرر کردہ (حق مہر) بھی نہیں دیتے اور ان سے نکاح کی رغبت رکھتے ہو۔ “ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ اللہ نے اس آیت میں واضح بیان کردیا کہ جب یتیم بچی حسب و نسب والی اور خوبصورت، مالدار ہو تو اس کے نکاح میں رغبت کرتے ہیں لیکن حق مہر اپنے عورتوں جیسا مکمل ادا نہیں کرتے اور جب یتیم بچی سے مال کی کمی کی وجہ نکاح کی رغبت نہیں ہوتی، پھر دوسری عورتیں تلاش کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : جب بےرغبتی کی وجہ سے اس بچی کو چھوڑتے ہیں تو پھر جس بچی کی طرف رغبت ہے تو اس کا مکمل حق مہر ادا کیا جائے یہ انصاف کی بات ہے۔