(۱۳۸۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ زَوَّجَ ابْنًا لَہُ ابْنَۃَ أَخِیہِ وَابْنُہُ صَغِیرٌ یَوْمَئِذٍ وَہَذَا مَحْمُولٌ عَلَی أَنَّ أَخَاہُ أَوْجَبَ الْعَقْدَ وَأَنَّ عَمَّہُ قَبِلَہُ لاِبْنِہِ الصَّغِیرِ۔
وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ وَالْحَسَنِ وَالشَّعْبِیِّ وَالنَّخَعِیِّ وَرُوِیَ عَنِ الْحَسَنِ بِإِسْنَادٍ ضَعِیفٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً : إِذَا أَنْکَحَ الرَّجُلُ ابْنَہُ وَہُوَ کَارِہٌ فَلاَ نِکَاحَ لَہُ وَإِذَا زَوَّجَہُ وَہُوَ صَغِیرٌ جَازَ نِکَاحُہُ وَرُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ قَالَ : الصَّدَاقُ عَلَی الاِبْنِ الَّذِی أَنْکَحْتُمُوہُ۔ وَرُوِیَ عَنْ عَطَائٍ أَنَّہُ قَالَ : إِذَا أَنْکَحَ الرَّجُلُ ابْنَہُ الصَّغِیرَ فَنِکَاحُہُ جَائِزٌ وَلاَ طَلاَقَ لَہُ وَعَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : لاَ یَجُوزُ عَلَیْہُ طَلاَقٌ یَعْنِی عَلَی الْمَجْنُونِ۔ [صحیح]
(١٣٨١٧) سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنے چھوٹے بچے کی شادی اپنی بھتیجی سے کردی اور ان کا بیٹا اس وقت چھوٹا تھا۔ یہ محمول کیا جائے گا کہ ان کے بھائی نے نکاح کو ثابت کردیا اور ان کے چچا نے ان کے بیٹے کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے بھی قبول کرلیا۔
(ب) حضرت حسن ضعیف سند سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے بیٹے کی شادی کرے اور وہ اس کو ناپسند کرے تو کوئی نکاح نہیں ہے اور جب بچپن میں اس کا نکاح ہوجائے تو جائز ہے۔
(ج) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حق مہر اس کے ذمہ ہے جس بچے کا تم نکاح کر رہے ہو۔
(د) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے چھوٹے بچے کی شادی کر دے تو اس کا نکاح جائز ہے اور کوئی طلاق نہیں۔
(ذ زہری فرماتے ہیں کہ مجنون، پاگل کی طلاق جائز نہیں ہے۔