(۱۳۸۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ أَبِی حَازِمِ بْنِ دِینَارٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- جَائَ تْہُ امْرَأَۃٌ فَقَالَتْ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی قَدْ وَہَبْتُ نَفْسِی لَکَ فَقَامَتْ قِیَامًا طَوِیلاً فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ زَوِّجْنِیہَا إِنْ لَمْ یَکُنْ لَکَ بِہَا حَاجَۃٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہَلْ عِنْدَکَ مِنْ شَیْئٍ تُصْدِقُہَا إِیَّاہُ ۔ فَقَالَ : مَا عِنْدِی إِلاَّ إِزَارِی ہَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّکَ إِنْ أَعْطَیْتَہَا إِزَارَکَ جَلَسْتَ لاَ إِزَارَ لَکَ فَالْتَمِسْ شَیْئًا ۔ قَالَ : لاَ أَجِدُ شَیْئًا قَالَ : فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِیدٍ ۔ فَالْتَمِسْ فَلَمْ یَجِدْ شَیْئًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہَلْ مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ شَیْء ٌ ۔ قَالَ : نَعَمْ سُورَۃُ کَذَا وَسُورَۃُ کَذَا لِسُوَرٍ سَمَّاہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : قَدْ زَوَّجْتُکَہَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ زَائِدَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ وَفُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ وَعَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ وَغَیْرُہُمْ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : قَدْ زَوَّجْتُکَہَا ۔ وَقَالَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ فِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْہُ : قَدْ أَنْکَحْتُکَہَا عَلَی مَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ۔ وَقَالَ فِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی عَنْہُ : قَدْ زَوَّجْتُکَہَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ۔
[صحیح۔ مسلم ۱۴۲۵]
(١٣٨١٨) حضرت سہل بن سعد ساعدی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ! میں نے اپنا نفس آپ کے لیے ہبہ کردیا ہے، وہ بہت دیر کھڑی رہی تو ایک شخص کھڑا ہوا۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر آپ کو ضرورت نہیں تو میرا نکاح کردیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : مہر دینے کے لیے کچھ ہے۔ اس نے کہا : میری یہ چادر ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نے فرمایا : اگر یہ چادر اس کو دے دو گے تو تمہارے پاس کوئی چادر نہ ہوگی، کوئی اور چیز تلاش کرو۔ اس نے کہا : میں کچھ بھی نہیں پاتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوہے کی انگوٹھی ہی تلاش کرو۔ اس کو تلاش کے باوجود کچھ نہ ملا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : قرآن کا کوئی حصہ یاد ہے۔ اس نے کہا : فلاں فلاں سورت، ان کا نام لیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قرآن کے عوض میں نے تیرا اس سے نکاح کردیا (یعنی قرآن اس کو یاد کروا دینا)
(ب) حضرت سہل بن سعد دو روایتوں میں سے ایک سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے تیرا نکاح اس سے کردیا ہے جو تجھے قرآن یاد ہے اس کے عوض۔
(ج) ایک دوسری روایت میں ہے کہ میں نے تیرا نکاح اس کے ساتھ کردیا ہے۔ اس کے عوض جو تیرے پاس قرآن ہے۔