hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 13832

.

سنن البيهقي

13832
Sunan Al Bayhaqi
(۱۳۸۲۶) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- خُطْبَۃَ الْحَاجَۃِ الْحَمْدُ لِلَّہِ أَوْ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّہِ نَسْتَعِینُہُ نَسْتَغْفِرُہُ وَنَعُوذُ بِاللَّہِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ یَہْدِہِ اللَّہُ فَلاَ مُضِلَّ لَہُ وَمَنْ یُضْلِلِ اللَّہُ فَلاَ ہَادِیَ لَہُ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَشْہَدُ أَنْ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ثُمَّ تَقْرَأُ الثَّلاَثَ آیَاتٍ { یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا} {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ حَقَّ تُقَاتِہِ} إِلَی آخِرِ الآیَۃِ ثُمَّ تَقْرَأُ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ و قُولُوا قَوْلاً سَدِیدًا} إِلَی آخِرِ الآیَۃِ ثُمَّ تَتَکَلَّمُ بِحَاجَتِکَ قَالَ شُعْبَۃُ : قُلْتُ لأَبِی إِسْحَاقَ ہَذِہِ فِی خُطْبَۃِ النِّکَاحِ أَوْ فِی غَیْرِہَا قَالَ فِی کُلِّ حَاجَۃٍ۔ [صحیح]
(١٣٨٢٦) عبیدہ بن عبداللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطبہ حاجت سکھایا۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ بیشک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ ہم اسی سے مدد و بخشش طلب کرتے ہیں اور اپنے نفس کی شرارتوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ جس کو اللہ رب العزت ہدایت دے اس کو گمراہ کرنے والا کوئی نہیں اور جس کو اللہ گمراہ کریں اس کو ہدایت دینے والا کوئی نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ پھر آپ یہ تین آیات تلاوت کرتے : { یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا } [النساء ١] ” اے لوگو ! اپنے رب سے ڈر جاؤ، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا ہے اور اس سے اس کی بیوی بھی پیدا کی ہے۔ “ { یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ } [آل عمران ١٠٢] ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈر جاؤ جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ “ { یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا ۔ یُّصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ وَ یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا ۔ } [الاحزاب ٧٠، ٧١] ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈر جاؤ اور درست بات کہو، وہ تمہارے اعمال درست کر دے گا۔۔۔“ اس کے بعد اپنی حاجت کا تذکرہ کرے۔ شعبہ کہتے ہیں : میں نے ابواسحاق سے پوچھا : یہ نکاح کے خطبہ کے بارے میں ہے یا اس کے علاوہ بھی ؟ کہنے لگے : ہر حاجت میں۔