(۱۳۸۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَیْسَرَۃَ أَنَّ خَالَتَہُ أَخْبَرَتْہُ عَنِ امْرَأَۃٍ قَالَ ہِیَ مُصَدَّقَۃٌ امْرَأَۃُ صِدْقٍ قَالَتْ : بَیْنَا أَنَا فِی غَزَاۃٍ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ إِذْ رَمِضُوا فَقَالَ رَجُلٌ مَنْ یُعْطِینِی نَعْلَیْہِ وَأُنْکِحُہُ أَوَّلَ بِنْتٍ تُولَدُ لِی فَخَلَعَ أَبِی نَعْلَیْہِ فَأَلْقَاہُمَا إِلَیْہِ فَوُلِدَتْ لَہُ جَارِیَۃٌ فَبَلَغَتْ ذَکَرَ نَحْوَہُ لَمْ یَذْکُرْ قِصَّۃَ الْقَتِیرِ۔وَالْقَتِیرُ : الشَّیْبُ۔ [ضعیف]
(١٣٨٢٥) ابراہیم بن میسرہ اپنی خالہ سے جو ایک سچی عورت سے نقل کرتی ہیں کہتی ہیں : ہم دور جاہلیت میں سخت گرمی میں ایک غزوہ میں تھے تو ایک شخص نے کہا : جو مجھے اپنے جوتے دے میں اس کو اپنی پہلی پیدا ہونے والی بیٹی کا نکاح دوں گا تو میرے والد نے اپنے جوتے اتار کر دے دیے۔ اس کے ہاں بچی پیدا ہو کر بلوغت کی عمر کو پہنچی۔ اس طرح انھوں نے ذکر کیا لیکن قتیر یعنی بڑھاپے کا تذکرہ نہیں کیا۔