(۱۳۸۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قِرَائَ ۃً وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَہْدِیٍّ الْقُشَیْرِیُّ لَفْظًا قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ أَنَّہُ قَالَ : کُنَّ بَغَایَا مُتَعَلِّنَاتٍ أَوْ مُعْلِنَاتٍ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ بَغِیُّ آلِ فُلاَنٍ وَبَغِیُّ آلِ فُلاَنٍ فَقَالَ اللَّہُ تَعَالَی {الزَّانِی لاَ یَنْکِحُ إِلاَّ زَانِیَۃً أَوْ مُشْرِکَۃً وَالزَّانِیَۃُ لاَ یَنْکِحُہَا إِلاَّ زَانٍ أَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذَلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ} قَالَ فَأَحْکَمَ اللَّہُ مِنْ ذَلِکَ أَمْرَ الْجَاہِلِیَّۃِ بِالإِسْلاَمِ۔ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ : فَقِیلَ لِعَطَائٍ أَبَلَغَکَ ذَلِکَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَعَمْ۔ [حسن]
(١٣٨٦٢) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ دور جاہلیت میں زانی عورتیں اعلان کرتی تھیں کہ وہ آل فلاں کی زانیہ عورتیں ہیں تو اللہ نے فرمایا : { الزَّانِی لاَ یَنکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً وَّالزَّانِیَۃُ لاَ یَنکِحُہَا اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ } [النور ٣] ” زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زانی مرد یا مشرک سے نکاح کرتی ہے اور مومنوں پر یہ حرام ہے۔ “ تو اللہ نے اسلام کے ذریعے جاہلیت کے اس فعل سے منع فرما دیا۔ ابن جریج کہتے ہیں : عطاء سے کہا گیا : یہ خبر آپ کو ابن عباس (رض) سے ملی ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : ہاں۔