hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 13867

.

سنن البيهقي

13867
Sunan Al Bayhaqi
(۱۳۸۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ : أَحْمَدُ بْنُ الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ الأَخْنَسِ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : کَانَ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ مَرْثَدُ بْنُ أَبِی مَرْثَدٍ وَکَانَ رَجُلاً یَحْمِلُ الأَسْرَی مِنْ مَکَّۃَ حَتَّی یَأْتِیَ بِہِمُ الْمَدِینَۃَ قَالَ وَکَانَ بِمَکَّۃَ بَغِیٌّ یُقَالُ لَہَا عَنَاقُ وَکَانَتْ صَدِیقَتَہُ وَأَنَّہُ وَعَدَ رَجُلاً یَحْمِلُہُ مِنْ أَسْرَی مَکَّۃَ قَالَ فَجِئْتُ حَتَّی انْتَہَیْتُ إِلَی ظِلِّ حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطِ مَکَّۃَ فِی لَیْلَۃٍ مُقْمِرَۃٍ قَالَ : فَجَائَ تْ عَنَاقُ فَأَبْصَرَتْ سَوَادَ ظِلِّی بِجَنْبِ الْحَائِطِ فَلَمَّا انْتَہَتْ إِلَیَّ عُرِفْتُ قَالَتْ : مَرْثَدٌ۔ قُلْتُ : مَرْثَدٌ قَالَتْ : ہَلْ لَکَ أَنْ تَبِیتَ عِنْدَنَا اللَّیْلَۃَ قُلْتُ : یَا عَنَاقُ قَدْ حَرَّمَ اللَّہُ الزِّنَا قَالَتْ : یَا أَہْلَ الْخِیَامِ ہَذَا الرَّجُلُ الَّذِی یَحْمِلُ أَسْرَاکُمْ فَاتَّبَعَنِی ثَمَانِیَۃٌ وَسَلَکْتُ الْخَنْدَمَۃَ فَانْتَہَیْتُ إِلَی کَہْفٍ أَوْ غَارٍ فَدَخَلْتُہُ فَجَائُ وا حَتَّی جَازُوا عَلَی رَأْسِی فَبَالُوا فَظَلَّ بَوْلُہُمْ عَلَی رَأْسِی وَعَمَاہُمُ اللَّہُ حَتَّی رَجَعُوا وَرَجَعْتُ إِلَی صَاحِبِی فَحَمَلْتُہُ و کَانَ رَجُلاً ثَقِیلاً حَتَّی انْتَہَیْتُ إِلَی الإِذْخِرِ فَفَکَکْتُ عَنْہُ کَبْلَہُ فَجَعَلْتُ أَحْمِلُہُ وَیُعِیینُی حَتَّی قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنْکِحُ عَنَاقًا؟ فَأَمْسَکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ شَیْئًا حَتَّی نَزَلَتْ ہَذِہِ السُّورَۃُ {الزَّانِی لاَ یَنْکِحُ إِلاَّ زَانِیَۃً أَوْ مُشْرِکَۃً وَالزَّانِیَۃُ لاَ یَنْکِحُہَا إِلاَّ زَانٍ أَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذَلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ} فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : یَا مَرْثَدُ الزَّانِی لاَ یَنْکِحُ إِلاَّ زَانِیَۃً أَوْ مُشْرِکَۃً وَالزَّانِیَۃُ لاَ یَنْکِحُہَا إِلاَّ زَانٍ أَوْ مُشْرِکٌ۔
(١٣٨٦١) حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص مرثد بن ابی مرثد تھا، جو مکہ سے قیدی اٹھا کر مدینہ لایا کرتا تھا۔ ایک چاندنی رات مکہ کی دیواروں میں سے کسی دیوار کے سائے میں تھا۔ عناق نامی عورت نے میرے سائے کی سیاہی کو دیوار کی جانب دیکھ لیا۔ جب وہ میرے قریب آئی تو اس نے مجھے پہچان لیا اور کہنی لگی : مرثد ! میں نے کہا : ہاں مرثد تو کہنے لگی : کیا آج رات میرے پاس گزارو گے ؟ مرثد کہتے ہیں : میں نے کہہ دیا کہ اللہ نے زنا کو حرام کردیا ہے تو اس عناق نامی عورت نے آواز دی۔ اے گھر والو ! یہ شخص تمہارے قیدی اٹھا کرلے جاتا ہے۔ کہتے ہیں : ٨ اشخاص نے میرا پیچھا کیا اور میں دیوار سے سائے میں چلا، یہاں تک میں ایک غار تک جا پہنچا اور اس میں داخل ہوگیا۔ وہ آئے اور میرے سر کے اوپر سے گزر گئے۔ انھوں نے پیشاب کیا تو ان کا پیشاب میرے سر کے اوپر گرا۔ اللہ نے ان کو اندھا کردیا، وہ واپس پلٹ گئے۔ میں نے واپس پلٹ کر قیدی کو اٹھا لیا۔ وہ بھاری شخص تھا، میں اسے لے کر اذخر تک آیا۔ میں نے اس کی بیڑی کو کھول دیا۔ میں اس کو اٹھاتا تھا وہ میری مدد کررہا تھا۔ اس طرح میں مدینہ آیا۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! کیا میں عناق سے نکاح کرلوں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کچھ دیر خاموش رہے اور مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر یہ سورة نازل ہوئی : { الزَّانِی لاَ یَنکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً وَّالزَّانِیَۃُ لاَ یَنکِحُہَا اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ } (النور : ٣) ” زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زانی مرد یا مشرک سے نکاح کرتی ہے اور یہ مومنوں پر حرام کیا گیا ہے اے مرثد ! زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زانی یا مشرک مرد سے نکاح کرتی ہے۔ “ (صحیح لغیرہ، تقدم قبلہ ]