(۱۳۸۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الرَّجُلِ یَفْجُرُ بِالْمَرْأَۃِ ثُمَّ یَتَزَوَّجُہَا بَعْدُ۔ قَالَ : کَانَ أَوَّلُہُ سِفَاحٌ وَآخِرَہُ نِکَاحٌ وَأَوَّلَہُ حَرَامٌ وَآخِرَہُ حَلاَلٌ۔
وَعَنْ سَعِیدٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَسَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ فِی الرَّجُلِ یَفْجُرُ بِالْمَرْأَۃِ ثُمَّ یَتَزَوَّجُہَا فَقَالُوا : لاَ بَأْسَ بِذَلِکَ إِذَا تَابَا وَأَصْلَحَا وَکَرِہَا مَا کَانَ۔ [صحیح]
(١٣٨٧٨) حضرت عکرمہ نے عبداللہ بن عباس (رض) سے ایک آدمی کے متعلق سوال کیا جو کسی عورت سے زنا کرتا ہے پھر اس سے شادی کرلیتا ہے، فرمانے لگے : پہلا زنا تھا اور دوسرا نکاح ہے اور پہلا حرام تھا اور دوسرا حلال ہے۔
(ب) قتادہ نے حضرت جابر بن عبداللہ، سعید بن مسیب اور سعید بن جبیر سے ایسے آدمی کے بارے میں نقل کیا جو کسی عورت سے زنا کرنے کے بعد شادی کرلیتا ہے۔ ان سب نے فرمایا : کوئی حرج نہیں، جب وہ توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں اور اپنی حالت کو ناپسند کریں۔