(۱۳۹۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- أَخْبَرَتْہَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ عِنْدَہَا وَأَنَّہَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ یَسْتَأْذِنُ فِی بَیْتِ حَفْصَۃَ قَالَتْ عَائِشَۃُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ رَجُلٌ یَسْتَأْذِنُ فِی بَیْتِکَ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أُرَاہُ فُلاَنًا لِعَمِّ حَفْصَۃَ مِنَ الرَّضَاعَۃِ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ لَوْ کَانَ فُلاَنٌ حَیًّا لِعَمِّہَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ دَخَلَ عَلَیَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : نَعَمْ إِنَّ الرَّضَاعَۃَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلاَدَۃُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ رَحِمَہُ اللَّہُ۔
[صحیح۔ بخاری ۲۶۴۶۔ ۵۲۳۹]
(١٣٩٠٢) عمرہ بنت عبدالرحمن کہتی ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے ان کو خبر دی کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس تھے کہ حضرت عائشہ (رض) نے ایک شخص کی آواز سنی۔ جو حضرت حفصہ کے گھر آنے کی اجازت طلب کررہا تھا۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ اے اللہ کے رسول ! یہ شخص آپ کے گھر داخل ہونے کی اجازت طلب کررہا ہے۔ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کے وہ حفصہ کے رضاعی چچا ہیں۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : اگر فلاں شخص زندہ ہوتا جو ان کا رضاعی چچا تھا کیا وہ میرے گھر داخل ہوتا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں۔ کیونکہ رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے ہوتے ہیں۔