(۱۳۹۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ قَالَ : سُئِلَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً فَفَارَقَہَا قَبْلَ یُصِیبُہَا ہَلْ تَحِلُّ لَہُ أُمُّہَا؟ فَقَالَ لَہُ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ : لاَ الأُمُّ مُبْہَمَۃٌ ، لَیْسَ فِیہَا شَرْطٌ وَإِنَّمَا الشَّرْطُ فِی الرَّبَائِبِ۔ ہَذَا مُنْقَطِعٌ۔ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِنْ کَانَتْ مَاتَتْ فَوَرِثَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ أُمُّہَا وَإِنْ طَلَّقَہَا فَإِنَّہُ یَتَزَوَّجُہَا إِنْ شَائَ وَقَوْلُ الْجَمَاعَۃِ أَوْلَی۔ [ضعیف]
(١٣٩٠٧) یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت سے سوال ہوا کہ کوئی شخص شادی کے بعد مجامعت سے پہلے اپنی بیوی کو طلاق دے کر اس کی والدہ سے شادی کرسکتا ہے ؟ تو حضرت زید بن ثابت فرمانے لگے : نہیں یہ تو اس کی والدہ ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے اس میں کوئی شرط نہیں ہے، لیکن بچیوں کے بارے میں شرط ہے۔
(ب) حضرت زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں : اگر وہ فوت ہوجائے تو اس کی والدہ سے نکاح جائز نہیں ہے۔ اگر اس کو طلاق دے دے تو پھر اگر چاہے تو نکاح کرلے۔