(۱۳۹۰۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ : ہِیَ مُبْہَمَۃٌ وَکَرِہَہَا۔وَیُذْکَرُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ فِی رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً ثُمَّ طَلَّقَہَا قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا أَوْ مَاتَ عَنْہَا أَنَّہَا لاَ تَحِلُّ لَہُ أُمُّہَا مَاتَ عَنْہَا أَوْ طَلَّقَہَا وَہُوَ قَوْلُ الْحَسَنِ وَقَتَادَۃَ۔ [حسن]
(١٣٩٠٨) حضرت عمران بن حصین نے ایک شخص کے بارے میں فرمایا جس نے کسی عورت سے شادی کی پھر دخول سے پہلے اس کو طلاق دی یا وہ فوت ہوگئی تو اس شخص کے لیے اس کی والدہ سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے، چاہے طلاق دے یا فوت ہوجائے۔ یہ حضرت حسن اور قتادہ کا قول ہے۔