(۱۳۹۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ : الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ زَیْنَبَ بِنْتَ أَبِی سَلَمَۃَ وَأُمَّہَا أُمَّ سَلَمَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- أَخْبَرَتْہُ أَنَّ أُمَّ حَبِیبَۃَ بِنْتَ أَبِی سُفْیَانَ أَخْبَرَتْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ انْکِحْ أُخْتِی زَیْنَبَ بِنْتَ أَبِی سُفْیَانَ۔ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَوَتُحِبِّینَ ذَلِکَ ۔ قَالَتْ قُلْتُ : نَعَمْ لَسْتُ لَکَ بِمُخْلِیَۃٍ وَأَحَبُّ مِنْ شَارَکَنِی فِی خَیْرٍ أُخْتِی۔ قَالَتْ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : إِنَّ ذَلِکَ لاَ یَحِلُّ لِی ۔ قَالَتْ فَقُلْتُ : وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا لَنَتَحَدَّثُ أَنَّکَ تُرِیدُ أَنْ تَنْکِحَ دُرَّۃَ بِنْتَ أَبِی سَلَمَۃَ قَالَ : بِنْتَ أُمِّ سَلَمَۃَ؟ ۔ قَالَتْ فَقُلْتُ : نَعَمْ فَقَالَ : وَاللَّہِ لَوْ أَنَّہَا لَمْ تَکُنْ رَبِیبَتِی فِی حَجْرِی مَا حَلَّتْ لِی إِنَّہَا لاَبْنَۃُ أَخِی مِنَ الرَّضَاعَۃِ أَرْضَعَتْنِی وَأَبَا سَلَمَۃَ ثُوَیْبَۃُ فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَیَّ بَنَاتِکُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِکُنَّ ۔ قَالَ عُرْوَۃُ : وَثُوَیْبَۃُ مَوْلاَۃُ أَبِی لَہَبٍ کَانَ أَبُو لَہَبٍ أَعْتَقَہَا فَأَرْضَعَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَلَمَّا مَاتَ أَبُو لَہَبٍ أُرِیَہُ بَعْضُ أَہْلِیہِ فِی النَّوْمِ بِشَرِّ حِیبَۃٍ فَقَالَ لَہُ : مَاذَا لَقِیتَ فَقَالَ أَبُو لَہَبٍ : لَمْ أَلْقَ بَعْدَکُمْ رَخَائً غَیْرَ أَنِّی سُقِیتُ فِی ہَذِہِ مِنِّی بِعَتَاقَتِی ثُوَیْبَۃَ وَأَشَارَ إِلَی النَّقِیرَۃِ الَّتِی بَیْنَ الإِبْہَامِ وَالَّتِی تَلِیہَا مِنَ الأَصَابِعِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۴۴۹]
(١٣٩٢٣) حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ زینب بنت ابی سلمہ اور اس کی والدہ ام سلمہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکاح میں تھیں تو ام حبیبہ بنت ابی سفیان نے کہا : میری بہن زینب بنت ابی سفیان سے شادی کرلو۔ کہتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو اس بات کو پسند کرتی ہے، کہتی ہیں : میں نے کہا : ہاں، میں بخل کرنے والی نہیں اور مجھے پسند ہے کہ بھلائی میں میرے ساتھ میری بہن بھی شریک ہوجائے۔ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ کہتی ہیں کہ ہمیں تو بیان کیا گیا کہ آپ درۃ بنت ابی سلمہ سے نکاح کا ارادہ رکھتے ہیں، فرماتے ہیں : بنت ام سلمہ ؟ کہتی ہیں : میں نے کہا : ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم وہ میری گود میں پرورش پانے والی بچی نہیں، جو میرے لیے حلال نہ ہو۔ وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے کہ ثوبیہ نے ابو سلمہ کو اور مجھے دودھ پلایا تھا تو میرے اوپر اپنی بیٹیاں اور بہنیں نہ پیش کیا کرو۔ عروہ کہتے ہیں کہ ثوبیہ ابو لہب کی لونڈی تھی ابو لہب نے اس کو آزاد کردیا تو اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دودھ پلایا تھا۔ جب ابولہب فوت ہوگیا تو اس کے گھر والوں میں سے کسی نے اس کو خواب میں بری حالت میں دیکھا، اس نے کہا : تجھے کیا ملا ؟ تو ابو لہب نے کہا : مجھے تمہاری بعد کبھی نرمی نہیں ملی لیکن ثوبیہ کی آزادی کی وجہ سے کچھ ملا۔ اور اس نے اس نقیرہ کی طرف اشارہ کیا جو اس کے انگوٹھے اور دوسری انگلیوں کے درمیان تھا۔