(۱۳۹۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی کِتَابِ الرَّضَاعِ : کَانَ أَکْبَرُ وَلَدِ الرَّجُلِ یَخْلُفُ عَلَی امْرَأَۃِ أَبِیہِ وَکَانَ الرَّجُلُ یَجْمَعُ بَیْنَ الأُخْتَیْنِ فَنَہَی اللَّہُ تَعَالَی عَنْ أَنْ یَکُونَ مِنْہُمْ أَحَدٌ یَجْمَعُ فِی عُمُرِہِ بَیْنَ أُخْتَیْنِ أَوْ یَنْکِحُ مَا نَکَحَ أَبُوہُ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ قَبْلَ عِلْمِہِمْ تَحْرِیمَہُ لَیْسَ أَنَّہُ أَقَرَّ فِی أَیْدِیہِمْ مَا کَانُوا قَدْ جَمَعُوا بَیْنَہُ قَبْلَ الإِسْلاَمِ۔
[صحیح۔ قال الشافعی فی الام ۵/ ۲۶]
(١٣٩٢٥) امام شافعی (رح) کتاب الرضاع میں فرماتے ہیں کہ کسی شخص کا بڑا بیٹا اپنے والد کی وفات کے بعد (اس کا نائب ہوتا بیوی کے لیے) یعنی اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرلیتا اور ایک انسان دو بہنوں کو ایک نکاح میں رکھ لیتا تھا تو اللہ نے اس بات سے منع کردیا کہ کوئی شخص اپنی زندگی میں دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرے یا اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرے لیکن جو جاہلیت میں ہوچکا ان کے حرام ہونے کے علم سے پہلے لیکن اب وہ بھی دو بہنوں کو ایک جگہ جمع نہ کریں جنہوں نے اسلام سے پہلے کرلیا تھا۔