(۱۳۹۳۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ قَبِیصَۃَ بْنِ ذُؤَیْبٍ : أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ الأُخْتَیْنِ مِنْ مِلْکِ الْیَمِینِ ہَلْ یُجْمَعُ بَیْنَہُمَا فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَحَلَّتْہُمَا آیَۃٌ وَحَرَّمَتْہُمَا آیَۃٌ وَأَمَّا أَنَا فَلاَ أُحَبُّ أَنْ أَصْنَعَ ہَذَا قَالَ فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِہِ فَلَقِیَ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : لَوْ کَانَ لِی مِنَ الأَمْرِ شَیْء ٌ ثُمَّ وَجَدْتُ أَحَدًا فَعَلَ ذَلِکَ لَجَعَلْتُہُ نَکَالاً قَالَ مَالِکٌ رَحِمَہُ اللَّہُ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ أُرَاہُ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔
قَالَ مَالِکٌ وَبَلَغَنِی عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ مِثْلُ ذَلِکَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۱۱۴۴]
(١٣٩٣٠) قبیصہ بن ذوئب فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عثمان بن عفان سے سوال کیا : کیا دو بہنیں جو لونڈی ہوں، ان کو ایک جگہ جمع کیا جاسکتا ہے ؟ تو حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : ایک آیت حلت اور دوسری آیت حرمت پر دلالت کرتی ہے، لیکن میں اس کو ناپسند کرتا ہوں۔ قبیصہ کہتے ہیں : میں حضرت عثمان کے پاس سے نکل کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ سے ملا۔ فرمانے لگے : اگر میرے اختیار میں کوئی چیز ہو، پھر میں کسی کو پا لوں کہ اس نے ایسا کیا ہے تو میں اسے لوگوں کے لیے عبرت بنا دوں۔ امام مالک فرماتے ہیں کہ زہری نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) تھے۔