(۱۳۹۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ وَأَبُو زَکَرِیَّا قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : سُئِلَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ الأُمِّ وَابْنَتِہَا مِنْ مِلْکِ الْیَمِینِ فَقَالَ مَا أُحِبُّ أَنْ یُجِیزَہُمَا جَمِیعًا۔ قَالَ عُبَیْدُ اللَّہِ قَالَ أَبِی فَوَدِدْتُ أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ أَشَدَّ فِی ذَلِکَ مِمَّا ہُوَ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ قَدْ غَلِطَ الْمُزَنِیُّ رَحِمَنَا اللَّہُ وَإِیَّاہُ فِی ہَذَا فَقَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَدِدْتُ۔ وَإِنَّمَا ہُوَ ابْنُ عُتْبَۃَ لاَ شَکَّ فِیہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ الشافعی فی الام ۴/۴]
(١٣٩٣٣) عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) سے سوال ہوا جو ماں، بیٹی لونڈی ہوں۔ فرمانے لگے : میں ان دونوں کو اکٹھے جائز قرار نہیں دیتا۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے کہا کہ حضرت عمر اس میں زیادہ سختی فرماتے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں : مزنی سے غلطی ہوگئی، اللہ ہم پر اور ان پر رحم فرمائے۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) نے فرمایا : میں چاہتا ہوں۔ وہ عتبہ کے بیٹے ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے۔