(۱۳۹۳۹) أَخْبَرَنَا الشَّرِیفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی شُرَیْحٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا شَرِیکٌ عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ یَعْنِی الْجَزَرِیَّ عَنْ نَافِعٍ قَالَ : کَانَ لاِبْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا مَمْلُوکَتَانِ أُخْتَانِ فَوَطِئَ إِحْدَاہُمَا ثُمَّ أَرَادَ أَنْ یَطَأَ الأُخْرَی فَأَخْرَجَ الَّتِی وَطِئَ مِنْ مِلْکِہِ۔ وَرَوَی الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِذَا کَانَ لِلرَّجُلِ جَارِیَتَانِ أُخْتَانِ فَغَشِیَ إِحْدَاہُمَا فَلاَ یَقْرَبِ الأُخْرَی حَتَّی یُخْرِجَ الَّتِی غَشِیَ مِنْ مِلْکِہِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن الجعد ۲۲۵۸]
(١٣٩٣٩) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی دو لونڈیاں جو آپس میں بہنیں تھیں، انھوں نے ایک سے وطی کی۔ پھر دوسری سے وطی کا ارادہ کیا تو جس سے وطی کی تھی اس کو اپنی ملکیت سے نکال دیا۔
(ب) میمون بن مہران فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : جس کی دو لونڈیاں ہوں جو آپس میں بہنیں ہوں، وہ ایک سے صحبت کرلیتا ہے تو دوسری سے اتنی دیر مجامعت نہ کرے جتنی دیر پہلی کو اپنی ملکیت سے نہ نکال دے۔