(۱۳۹۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِی کَامِلٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِی ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَمِّہِ أَنَّہُ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ أَنَّہُ سَمِعَ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ یُخْبِرَانِ خَبَرًا مِنْ خَبَرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ غَزْوَۃِ الْحُدَیْبِیَۃِ فَکَانَ فِیمَا أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ عَنْہُمَا : أَنَّہُ لَمَّا کَاتَبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- سُہَیْلَ بْنَ عَمْرٍو یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ عَلَی قَضِیَّۃِ الْمُدَّۃِ کَانَ فِیمَا اشْتَرَطَ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو أَنَّہُ لاَ یَأْتِیکَ مِنَّا أَحَدٌ وَإِنْ کَانَ عَلَی دِینِکَ إِلاَّ رَدَدْتَہُ إِلَیْنَا وَخَلَّیْتَ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُ وَأَبَی سُہَیْلٌ أَنْ یُقَاضِیَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ِلاَّ عَلَی ذَلِکَ فَکَرِہَ الْمُؤْمِنُونَ ذَلِکَ وَأَلْغَطُوا فِیہِ وَتَکَلَّمُوا فِیہِ فَلَمَّا أَبَی سُہَیْلٌ أَنْ یُقَاضِیَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- إِلاَّ عَلَی ذَلِکَ کَاتَبَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَرَدَّ أَبَا جَنْدَلِ بْنَ سُہَیْلٍ یَوْمَئِذٍ إِلَی أَبِیہِ سُہَیْلِ بْنِ عَمْرٍو وَلَمْ یَأْتِ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ إِلاَّ رُدَّ فِی تِلْکَ الْمُدَّۃِ وَإِنْ کَانَ مُسْلِمًا ثُمَّ جَائَ الْمُؤْمِنَاتُ مُہَاجِرَاتٍ وَکَانَتْ أُمُّ کُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَۃَ بْنِ أَبِی مُعَیْطٍ مِمَّنْ ہَاجَرَتْ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہِیَ عَاتِقٌ فَجَائَ أَہْلُہَا یَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یَرْجِعَہَا إِلَیْہِمْ حَتَّی أَنْزَلَ اللَّہُ فِی الْمُؤْمِنَاتِ مَا أَنْزَلَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۱۸۱]
(١٣٩٧٠) مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ دونوں نے مجھے بیان کیا کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سہیل بن عمرو کو حدیبیہ کے دن مقررہ مدت کا معاہدہ لکھایا، جس میں سہیل بن عمرو نے شرط رکھی کہ اگر ہمارا کوئی آدمی آپ کے پاس آئے گا تو آپ کو واپس کرنا ہوگا اور آپ ہمارے اور اس شخص کے درمیان سے ہٹ جائیں گے اور سہیل نے چاہا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف فیصلہ کریں لیکن مومنوں کو یہ معاہدہ گراں گزرا، انھوں نے شور کیا اور کلام کی۔
سہیل کہنے لگا کہ اس شرط پر ہی معاہدہ ہوگا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکھوا دیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سہیل کے بیٹے ابوجندل کو سہیل کی طرف واپس کردیا۔ اگر اس مدت میں کوئی بھی مسلمان مرد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آتا تو آپ واپس کردیتے، پھر جب مومنہ عورتیں ہجرت کر کے آئیں۔ جس میں عقبہ بن ابی معیط کی بیٹی ام کلثوم بھی تھی، یہ آزاد تھی تو اس کے گھر والوں نے اس کی واپسی کا مطالبہ کیا، پھر اللہ نے ان مومن عورتوں کے بارے میں نازل کیا جو بھی نازل فرمایا۔