(۱۳۹۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {وَلاَ تَنْکِحُوا الْمُشْرِکَاتِ حَتَّی یُؤْمِنَّ} ثُمَّ اسْتَثْنَی نِسَائَ أَہْلِ الْکِتَابِ فَقَالَ {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابِ مِنْ قَبْلِکُمْ} حِلٌّ لَکُمْ {إِذَا آتَیْتُمُوہُنَّ أُجُورَہُنَّ} یَعْنِی مُہُورَہُنَّ {مُحْصَنَاتٍ غَیْرَ مُسَافِحَاتٍ} یَقُولُ عَفَائِفَ غَیْرَ زَوَانِی۔ [صحیح لغیرہ]
(١٣٩٧٦) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اللہ کے اس فرمان : { وَ لَا تَنْکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ } [البقرۃ ٢٢١] ” اور مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک وہ ایمان لائیں۔ “ پھر اہل کتاب کی عورتوں کا استثناء کردیا گیا۔ فرمایا : وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ } [المائدۃ ٥] ” اور تم سے پہلے اہل کتاب کی پاک دامن عورتیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں۔ “ { اِذَآ اٰتَیْتُمُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ } یعنی ان کے حق مہر دو : { مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ } ” پاک دامنہ ہوں زانی نہیں۔ “