(۱۳۹۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْہِلاَلِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ مُحَمَّدًا -ﷺ- بِالْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ فَدِینُنَا خَیْرُ الأَدْیَانِ وَمِلَّتُنَا فَوْقَ الْمِلَلِ وَرِجَالُنَا فَوْقَ نِسَائِہِمْ وَلاَ یَکُونُ رِجَالُہُمْ فَوْقَ نِسَائِنَا قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ لَمْ یَرْوِہِ عَنْ سُفْیَانَ إِلاَّ النُّعْمَانُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَأَہْلُ الْکِتَابِ الَّذِینَ یَحِلُّ نِکَاحُ حَرَائِرِہِمْ أَہْلُ الْکِتَابَیْنِ الْمَشْہُورَیْنِ التَّوْرَاۃِ وَالإِنْجِیلِ وَہُمُ الْیَہُودُ وَالنَّصَارَی مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ دُونَ الْمَجُوسِ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَہَذَا الأَثَرُ الْمَشْہُورُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- سُنُّوا بِہِمْ سُنََّۃَ أَہْلِ الْکِتَابِ فَحَمَلَہُ أَہْلُ الْعِلْمِ مَعَ الاِسْتِدَلاَلِ بِرِوَایَۃِ بِجَالَۃَ عَلَی الْجِزْیَۃِ فَہُمْ مُلْحَقُونَ بِہِمْ فِی حَقْنِ الدَّمِ بِالْجِزْیَۃِ دُونَ غَیْرِہَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
(١٣٩٨٦) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، تاکہ وہ تمام ادیان پر غالب آئے۔ ہمارا دین تمام ادیان سے بہتر اور ہماری ملت تمام ملتوں سے افضل ہے اور ہمارے مرد ان کی عورتوں پر فوقیت رکھتے ہیں اور ان کے مرد اس طرح نہیں ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اہل کتاب کی آزاد عورتیں حلال ہیں یعنی عیسائی اور یہودی، لیکن مجوس کی عورتیں جائز نہیں ہیں۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن عوف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان (یعنی مجوس) کے ساتھ اہل کتاب والا طریقہ رکھو تو اہل علم نے بجالۃ کی روایت سے اس کو جزیہ پر محمول کیا ہے، وہ ان کو خون بہا میں جزیہ کے ساتھ ملا دیتے ہیں، اس کے علاوہ میں نہیں۔