(۱۳۹۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِیدِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قَالَ عَطَاء ٌ : لَیْسَ نَصَارَی الْعَرَبِ بِأَہْلِ الْکِتَابِ إِنَّمَا أَہْلُ الْکِتَابِ بَنُو إِسْرَائِیلَ وَالَّذِینَ جَائَ تْہُمُ التَّوْرَاۃُ وَالإِنْجِیلُ فَأَمَّا مَنْ دَخَلَ فِیہِمْ مِنَ النَّاسِ فَلَیْسُوا مِنْہُمْ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَدْ رُوِّینَا عَنْ عُمَرَ وَعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی نَصَارَی الْعَرَبِ بِمَعْنَی ہَذَا : وَأَنَّہُ لاَ تُؤْکَلُ ذَبَائِحُہُمْ وَذَلِکَ یَرِدُ فِی مَوْضِعِہِ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔ [صحیح]
(١٣٩٨٧) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ عرب کے نصاریٰ اہل کتاب نہیں ہیں، اہل کتاب تو بنو اسرائیل ہیں۔ جن کے پاس توراۃ و انجیل آئی۔ لیکن جو لوگ ان میں شامل ہوگئے وہ ان میں سے نہیں ہیں۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں : حضرت عمر اور علی (رض) عرب کے نصاریٰ کو بھی اسی معنیٰ میں لیتے ہیں اور یہ کہ ان کا ذبیحہ نہ کھایا جائے گا۔