(۱۳۹۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الأَرْدَسْتَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَیٍّ عَنْ غُضَیْفِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : کَتَبَ عَامِلٌ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِنَّ نَاسًا مِنْ قِبَلِنَا یُدْعَوْنَ السَّامِرَۃَ یُسْبِتُونَ یَوْمَ السَّبْتِ وَیَقْرَئُ ونَ التَّوْرَاۃَ وَلاَ یُؤْمِنُونَ بِیَوْمِ الْبَعْثِ فَمَا یَرَی أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینِ فِی ذَبَائِحِہِمْ؟ قَالَ فَکَتَبَ : ہُمْ طَائِفَۃٌ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ ذَبَائِحُہُمْ ذَبَائِحُ أَہْلِ الْکِتَابِ۔ [حسن۔ تقدم برقم ۱۳۹۸۴۲]
(١٣٩٨٩) غفیف بن حارث فرماتے ہیں کہ گورنر نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو لکھا کہ کچھ لوگ ہمارے علاقے میں ہیں، جن کو سامرہ کہا جاتا ہے وہ ہفتہ کے دن کو مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں، توراۃ کی تلاوت کرتے ہیں، لیکن قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے۔ اے امیر المومنین ! ان کے ذبیحہ کا کیا حکم ہے ؟ تو حضرت عمر بن خطاب (رض) نے لکھا کہ یہ اہل کتاب ہیں ان کے ذبیحہ کا حکم اہل کتاب کے ذبیحہ والا ہی ہے۔