(۱۴۰۶۱) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِی قِصَّۃِ خُرُوجِ أَبِی الْعَاصِ بْنِ الرَّبِیعِ وَہُوَ عَلَی شِرْکِہِ خَلْفَ زَیْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی الْمَدِینَۃِ قَالَ فَحَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ رُومَانَ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : صَرَخَتْ زَیْنَبُ أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّی قَدْ أَجَرْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِیعِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَتْ : ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَدَخَلَ عَلَی ابْنَتِہِ زَیْنَبَ فَقَالَ : أَیْ بُنَیَّۃُ أَکْرِمِی مَثْوَاہُ وَلاَ یَخْلُصَنَّ إِلَیْکِ فَإِنَّکِ لاَ تَحِلِّینَ لَہُ ۔
(١٤٠٦١) ابن اسحاق ابو العاص بن ربیع جو شرک کی حالت میں نکلے۔ ان کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کی بیوی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی زینب مدینہ میں تھی، کہتے ہیں کہ یزید بن رومان عروہ سے اور وہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت زینب نے آواز لگائی : اے لوگو ! میں نے ابو العاص بن ربیع کو پناہ دی ہے، اس نے حدیث کو ذکر کیا ہے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی بیٹی زینب کے پاس آئے اور فرمایا : اے بیٹی ! تو اس کو اچھا ٹھکانا دے، لیکن یہ تمہارے اوپر داخل نہ ہو؛ کیونکہ تو اس کے لیے حلال نہیں ہے۔ [ضعیف ]