hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 14068

.

سنن البيهقي

14068
Sunan Al Bayhaqi
(۱۴۰۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا جَمَاعَۃٌ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ قُرَیْشٍ وَأَہْلِ الْمَغَازِی وَغَیْرِہِمْ عَنْ عَدَدٍ قَبْلَہُمْ : أَنَّ أَبَا سُفْیَانَ بْنَ حَرْبٍ أَسْلَمَ بِمَرٍّ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ظَاہِرٌ عَلَیْہَا فَکَانَتْ بِظُہُورِہِ وَإِسْلاَمِ أَہْلِہَا دَارَ إِسْلاَمٍ وَامْرَأَتُہُ ہِنْدُ بِنْتُ عُتْبَۃَ کَافِرَۃٌ بِمَکَّۃَ وَمَکَّۃُ یَوْمَئِذٍ دَارُ حَرْبٍ ثُمَّ قَدِمَ عَلَیْہَا یَدْعُوہَا إِلَی الإِسْلاَمِ فَأَخَذَتْ بِلِحْیَتِہِ وَقَالَتِ اقْتُلُوا الشَّیْخَ الضَّالَّ وَأَقَامَتْ أَیَّامًا قَبْلَ أَنْ تُسْلِمَ ثُمَّ أَسْلَمَتْ وَبَایَعَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَثَبَتَا عَلَی النِّکَاحِ وَأُخْبِرْنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- دَخَلَ مَکَّۃَ وَأَسْلَمَ أَکْثَرُ أَہْلِہَا وَصَارَتْ دَارَ إِسْلاَمٍ وَأَسْلَمَتِ امْرَأَۃُ عِکْرِمَۃَ بْنِ أَبِی جَہْلٍ وَامْرَأَۃُ صَفْوَانَ بْنِ أُمَیَّۃَ وَہَرَبَ زَوْجَاہُمَا نَاحِیَۃَ الْیَمَنِ مِنْ طَرِیقِ الْیَمَنِ کَافِرَیْنِ إِلَی بَلَدِ کُفْرٍ ثُمَّ جَائَ ا فَأَسْلَمَا بَعْدَ مُدَّۃٍ وَشَہِدَ صَفْوَانُ حُنَیْنَ کَافِرًا فَدَخَلَ دَارَ الإِسْلاَمِ بَعْدَ ہَرَبِہِ مِنْہَا وَخَرَجَ مِنْہَا کَافِرًا فَاسْتَقَرَّا عَلَی النِّکَاحِ وَکَانَ ذَلِکَ کُلُّہُ وَنِسَاؤُہُمْ مَدُخُولٌ بِہِنَّ لَمْ تُنْقَضْ عِدَدُہُنَّ۔ [صحیح]
(١٤٠٦٢) قریش کے اہل علم اور اہل مغازی فرماتے ہیں کہ ابو سفیان بن حرب نے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر غلبہ پا لیا اور وہ دارالسلام میں تھے اور ان کی بیوی ہند بنت عتبہ مکہ یعنی دار الحرب میں تھی، پھر ابوسفیان بن حرب نے مکہ آکر اس کو اسلام کی دعوت دی، لیکن اس نے ابوسفیان کی داڑھی پکڑی اور کہنے لگی : اس گمراہ بوڑھے کو قتل کر دو ۔ پھر وہ کئی دن تک اسلام نہ لائی، پھر وہ اسلام لائی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کی تو آپ نے ابوسفیان اور ہند بنت عتبہ کو اس نکاح میں ثابت رکھا اور ہمیں خبر دی گئی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوئے تو بہت سارے لوگ مسلمان ہوگئے اور مکہ دارالسلام بن گیا، عکرمہ اور صفوان کی بیویاں بھی اسلام لائیں اور ان کے شوہر یمن کی طرف کفر کی حالت میں بھاگ گئے، پھر ایک مدت کے بعد دونوں مسلمان ہوئے اور صفوان حنین کے موقع پر کفر کی حالت میں حاضر ہوئے اور اپنے بھاگنے کے بعد دارالسلام میں داخل ہوئے اور کفر کی حالت میں ہی گئے تھے، وہ اسی نکاح پر باقی رہے، ان تمام کی عورتیں مدخول بہا تھیں اور ان کی عدتیں ختم نہ ہوئی تھیں۔