(۱۴۰۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ وَقَالَ عَطَاء ٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ الْمُشْرِکُونَ عَلَی مَنْزِلَتَیْنِ مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ- وَالْمُؤْمِنِینَ کَانَ مُشْرِکِی أَہْلِ حَرْبٍ یُقَاتِلُہُمْ وَیُقَاتِلُونَہُ وَمُشْرِکِی أَہْلِ عَہْدٍ لاَ یُقَاتِلُہُمْ وَلاَ یُقَاتِلُونَہُ فَکَانَ إِذَا ہَاجَرَتِ امْرَأَۃٌ مِنَ الْحَرْبِ لَمْ تُخْطَبْ حَتَّی تَحِیضَ وَتَطْہُرَ فَإِذَا تَطَہَّرَتْ حَلَّ لَہَا النِّکَاحُ فَإِنْ ہَاجَرَ زَوْجُہَا قَبْلَ أَنْ تَنْکِحَ رُدَّتْ إِلَیْہِ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ ہَکَذَا۔ وَفِی ہَذَا دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ الدَّارَ لَمْ تَکُنْ تُفَرِّقُ بَیْنَہُمَا۔
[صحیح۔ بخاری ۵۲۸۷]
(١٤٠٦٦) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی اور مومنوں کے لیے مشرکین کی دو قسمیں تھیں : 1 ایک تو وہ مشرک جو مسلمانوں سے لڑائی کرتے اور مسلمان ان کے خلاف جہاد کرتے۔ 2 دوسرے وہ مشرک جن سے معاہدہ تھا، نہ وہ مسلمانوں کے خلاف لڑتے اور نہ ہی مسلمان ان کے خلاف لڑتے۔ جب حربی مشرک کی عورتوں میں سے کوئی ہجرت کر کے آئے تو ایک حیض کے بعد طہر میں اس سے نکاح کیا جاسکتا ہے۔ اگر اس کا خاوند نکاح سے پہلے ہجرت کر کے آجائے تو اس کی طرف لوٹا دی جائے گی۔ اس حدیث میں دلالت ہے کہ دار تفریق کا باعث نہیں ہے۔