(۱۴۰۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِالرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِالْعَزِیزِ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی حَدِیثِ الْحَسَنِ فِی الرَّجُلِ یُجَامِعُ الْمَرْأَۃَ وَالأُخْرَی تَسْمَعُ قَالَ : کَانُوا یَکْرَہُونَ الْوَجْسَ۔
حَدَّثَنَاہُ عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ غَالِبٍ الْقَطَّانِ عَنِ الْحَسَنِ۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : الْوَجْسُ ہُوَ الصَّوْتُ الْخَفِیُّ۔ وَقَدْ رُوِیَ فِی مِثْلِ ہَذَا مِنَ الْکَرَاہَۃِ مَا ہُوَ أَشَدُّ مِنْہُ وَہُوَ فِی بَعْضِ الْحَدِیثِ حَتَّی الصَّبِیِّ فِی الْمَہْدِ۔
قَالَ وَأَمَّا حَدِیثُ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ کَانَ یَنَامُ بَیْنَ جَارِیَتَیْنِ سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ الْعَوَّامِ یُحَدِّثُہُ عَنْ أَبِی شَیْبَۃَ قَالَ سَمِعْتُ عِکْرِمَۃَ یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ کَانَ یَنَامُ بَیْنَ جَارِیَتَیْنِ۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ وَإِنَّمَا ہَذَا عِنْدِی عَلَی النَّوْمِ لَیْسِ عَلَی الْجِمَاعِ۔ [ضعیف]
(١٤٠٩٦) ابوعبید حضرت حسن کی حدیث میں کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنی بیوی سے مجامعت کرتا ہے اور دوسری سنتی ہے، فرماتے ہیں : وہ مخفی آواز کو بھی ناپسند کرتے تھے اور بعض میں تو اتنی کراہت بیان کی گئی ہے کہ بچہ اپنے جھولے میں بھی نہ سنے۔
(ب) ابن عباس (رض) کی حدیث میں ہے کہ وہ اپنی دو لونڈیوں کے درمیان میں سوتے۔
(ج) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنی دو لونڈیوں کے درمیان سوتے۔ ابو عبید کہتے ہیں : یہ صرف سونے کی حالت ہے جماع کی نہیں۔