(۱۴۱۱۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا عَمِّی یَعْنِی إِبْرَاہِیمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا جَدِّی مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ الْقُرَظِیِّ فَجَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا أَبَا عَمْرٍو مَا تَقُولُ فِی إِتْیَانِ الْمَرْأَۃِ فِی دُبُرِہَا؟ فَقَالَ : ہَذَا شَیْخٌ مِنْ قُرَیْشٍ فَسَلْہُ یَعْنِی عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَلِیِّ بْنِ السَّائِبِ قَالَ وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ لَمْ یَسْمَعْ فِی ذَلِکَ شَیْئًا قَالَ : اللَّہُمَّ قَذَرٌ وَلَوْ کَانَ حَلاَلاً۔ ثُمَّ إِنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَلِیٍّ لَقِیَ عَمْرَو بْنَ أُحَیْحَۃَ بْنِ الْجُلاَحِ فَقَالَ : ہَلْ سَمِعْتَ فِی إِتْیَانِ الْمَرْأَۃِ فِی دُبُرِہَا شَیْئًا؟ فَقَالَ : أَشْہَدُ لَسَمِعْتُ خُزَیْمَۃَ بْنَ ثَابِتٍ الأَنْصَارِیَّ الَّذِی جَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- شَہَادَتَہُ بِشَہَادَۃِ رَجُلَیْنِ یَقُولُ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ-۔ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ بِنَحْوِہِ وَلِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ السَّائِبِ فِیہِ إِسْنَادٌ آخَرُ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]
(١٤١١٣) محمد بن علی فرماتے ہیں کہ میں محمد بن کعب قرظی کے پاس تھا تو ایک شخص نے آکرکہا : اے ابو عمرو ! عورت کی دبر میں کے بارہ میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ اس نے کہا : یہ قریشی شیخ ہیں، آپ ان سے پوچھ لیں، یعنی عبداللہ بن علی بن سائب کہتے ہیں کہ عبداللہ نے اس بارے میں کچھ نہیں سنا۔ کہنے لگے : اے اللہ ! یہ گندگی ہے، اگرچہ یہ حلال بھی ہو، پھر عبداللہ بن علی کی ملاقات عمرو بن احیحہ بن جلاح سے ہوئی ؟ ان سے پوچھا کیا : آپ نے عورت کی دبر میں آنے کے بارے میں کچھ سن رکھا ہے ؟ اس نے کہا : میں نے خزیمہ بن ثابت انصاری سے سنا، جن کی شہادت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مردوں کے برابر قرار دی۔ وہ کہتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، پھر باقی حدیث ذکر کی۔