(۱۴۱۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ : سَعِیدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ عَنْ قَیْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَلَیْسَ مَعَنَا نِسَاء ٌ فَقُلْنَا : أَلاَ نَسْتَخْصِی فَنَہَانَا عَنْ ذَلِکَ وَرَخَّصَ لَنَا أَنْ نَنْکِحَ الْمَرْأَۃَ بِالثَّوْبِ إِلَی أَجَلٍ۔
لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عُثْمَانَ وَفِی حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ : ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا فِی أَنْ نَتَزَوَّجَ الْمَرْأَۃَ بِالثَّوْبِ إِلَی أَجَلٍ ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّہِ { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تُحَرِّمُوا طَیِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّہُ لَکُمْ } الآیَۃَ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ۔
[صحیح۔ بخاری ۴۶۱۵۔ ۵۰۷۱]
(١٤١٤١) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ کرتے تھے اور ہمارے ساتھ عورتیں نہ ہوتی تھیں، تو ہم نے خصی ہونے کی اجازت طلب کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اس سے منع فرما دیا اور ہمیں رخصت دی کہ کسی کپڑے کے عوض وقت مقرر تک کسی عورت سے نکاح کرلیں۔
(ب) ابی عبداللہ کی حدیث میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں رخصت دی کہ ہم کپڑے کے عوض کسی عورت سے مقررہ مدت تک نکاح کرلیں، پھر عبداللہ نے یہ آیت تلاوت کی : { یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمْ } [المائدۃ ٨٧] ” اے ایمان والو ! اللہ کی حلال کردہ پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ کرو۔ “