(۱۴۱۴۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : کُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَلَیْسَ مَعَنَا نِسَاء ٌ فَأَرَدْنَا أَنْ نَخْتَصِیَ فَنَہَانَا عَنْ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَنْکِحَ الْمَرْأَۃَ إِلَی أَجَلٍ بِالشَّیْئِ ۔ زَادَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ فِی رِوَایَتِہِ بِإِسْنَادِہِ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ ذَکَرَ ابْنُ مَسْعُودٍ الإِرْخَاصَ فِی نِکَاحِ الْمُتْعَۃِ وَلَمْ یُوَقِّتْ شَیْئًا یَدُلُّ أَہُوَ قَبْلَ خَیْبَرَ أَوْ بَعْدَہَا وَأَشْبَہَ حَدِیثَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی نَہْیِ النَّبِیِّ -ﷺ- عَنِ الْمُتْعَۃِ أَنْ یَکُونَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ نَاسِخًا لَہُ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(١٤١٤٢) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ میں شریک تھے، ہمارے ساتھ عورتیں نہ تھیں تو ہم نے خصی ہونا چاہا جس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرما دیا اور پھر ہمیں رخصت دی کہ کسی مقررہ چیز کے عوض مقررہ مدت تک کسی عورت سے نکاح کرلیں۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں ابن مسعود (رض) نے نکاحِ متعہ میں رخصت کا ذکر کیا ہے، لیکن کوئی چیز مقرر نہیں کی کہ یہ خیبر سے پہلے تھا یا بعد میں اور حضرت علی بن ابی طالب کی حدیث زیادہ مناسب ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نکاحِ متعہ سے منع فرمایا تھا اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ یہ اس کے لیے ناسخ ہو۔