hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 14170

.

سنن البيهقي

14170
Sunan Al Bayhaqi
(۱۴۱۶۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ قَالَ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ: أَنَّ عَبْدَاللَّہِ بْنَ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَامَ بِمَکَّۃَ فَقَالَ: إِنَّ نَاسًا أَعْمَی اللَّہُ قُلُوبَہُمْ کَمَا أَعْمَی أَبْصَارَہُمْ یُفْتُونَ بِالْمُتْعَۃِ وَیُعَرِّضُ بِالرَّجُلِ فَنَادَاہُ فَقَالَ: إِنَّکَ جِلْفٌ جَافٍ فَلَعَمْرِی لَقَدْ کَانَتِ الْمُتْعَۃُ تُفْعَلُ فِی عَہْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِینَ یُرِیدُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ ابْنُ الزُّبَیْرِ: فَجَرِّبْ بِنَفْسِکَ فَوَاللَّہِ لَئِنْ فَعَلْتَہَا لأَرْجُمَنَّکَ بِأَحْجَارِکَ۔ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ فَأَخْبَرَنِی خَالِدُ بْنُ الْمُہَاجِرِ بْنِ سَیْفِ اللَّہِ : أَنَّہُ بَیْنَمَا ہُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَجُلٍ جَائَ ہُ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَاہُ فِی الْمُتْعَۃِ فَقَالَ لَہُ ابْنُ أَبِی عَمْرَۃَ الأَنْصَارِیُّ : مَہْلاً۔ قَالَ : مَا ہِیَ وَاللَّہِ لَقَدْ فُعِلَتْ فِی عَہْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِینَ۔ قَالَ ابْنُ أَبِی عَمْرَۃَ : إِنَّہَا کَانَتِ رُخْصَۃً فِی أَوَّلِ الإِسْلاَمِ لِمَنْ یُضْطَرُّ إِلَیْہَا کَالْمَیْتَۃِ وَالدَّمِ وَلَحْمِ الْخِنْزِیرِ ثُمَّ أَحْکَمَ اللَّہُ الدِّینَ وَنَہَی عَنْہَا۔ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ وَأَخْبَرَنِی الرَّبِیعُ بْنُ سَبْرَۃَ الْجُہَنِیُّ أَنَّ أَبَاہُ قَالَ : قَدْ کُنْتُ اسْتَمْتَعْتُ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنِ امْرَأَۃٍ مِنْ بَنِی عَامِرٍ بِبُرْدَیْنِ أَحْمَرَیْنِ ثُمَّ نَہَانَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الْمُتْعَۃِ۔ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ وَسَمِعْتُ الرَّبِیعَ بْنَ سَبْرَۃَ یُحَدِّثُ ذَلِکَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَأَنَا جَالِسٌ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَرْمَلَۃَ بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ مسلم ۱۴۰۶]
(١٤١٦٤) عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر نے مکہ میں قیام کیا تو فرمانے لگے : اللہ نے لوگوں کے دل اور آنکھیں اندھی کردی ہیں، وہ نکاحِ متعہ میں آزمائے جاتے ہیں اور کسی مرد کو نشانہ بناتے ہیں، انھوں نے اس کو آواز دی، کہنے لگے : آپ بڑے سخت مزاج ہیں۔ یہ نکاح متعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں تھا تو ابن زبیر نے کہا : اپنے اوپر تجربہ کرلو۔ اللہ کی قسم ! اگر تو نے ایسا کیا تو میں تجھے تیرے پتھروں کے ذریعے رجم کر دوں گا۔
(ب) خالد بن مہاجر بن سیف اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک شخص کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، یعنی ابن ابی عمرہ کے پاس تو ایک شخص نے آکر نکاحِ متعہ کے بارے میں سوال کیا تو ابن ابی عمرہ انصاری نے کہا : ذرا ٹھہرو۔ فرمانے لگے : یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں تھا تو ابن ابی عمرہ نے کہا کہ یہ رخصت ابتدائِ اسلام میں تھی، جب انسان مردار، خون، خنزیر کے گوشت کو مجبوری کی حالت میں کھا سکتا ہے، پھر اللہ نے دین کو مکمل کردیا تو اس سے منع فرما دیا۔
(ج) ربیع بن سبرہ جہنی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں بنو عامر کی ایک عورت سے دو سرخ چادروں کے عوض نکاحِ متعہ کیا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نکاحِ متعہ سے منع فرما دیا۔
(د) ابن شہاب کہتے ہیں کہ میں نے ربیع بن سبرہ سے سنا، وہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو بیان کر رہے تھے اور میں بیٹھا ہوا تھا۔