(۱۴۱۶۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَبُو الشَّیْخِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : یُعَرِّضُ بِابْنِ عَبَّاسٍ۔
وَزَادَ فِی آخِرِہِ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ وَأَخْبَرَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ : أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کَانَ یُفْتِی بِالْمُتْعَۃِ وَیُغْمِصُ ذَلِکَ عَلَیْہِ أَہْلُ الْعِلْمِ فَأَبَی ابْنُ عَبَّاسٍ أَنْ یَنْتَکِلَ عَنْ ذَلِکَ حَتَّی طَفِقَ بَعْضُ الشُّعَرَائِ یَقُولُ: یَا صَاحِ ہَلْ لکَ َفِی فُتْیَا ابْنِ عَبَّاسِ۔ ہَلْ لَکَ فِی نَاعِمٍ خَوْدٍ مُبَتَّلَۃٍ تَکُونُ مَثْوَاکَ حَتَّی مَصْدَرِ النَّاسِ۔
قَالَ فَازْدَادَ أَہْلُ الْعِلْمِ بِہَا قَذَرًا وَلَہَا بُغْضًا حِینَ قِیلَ فِیہَا الأَشْعَارُ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(١٤١٦٥) ابن وہب بھی اس کی مانند ذکر کرتے ہیں کہ وہ ابن عباس کو نشانہ بناتے تھے اور اس کے آخر میں زیادتی کی کہ ابن شہاب نے کہا : مجھے عبیداللہ نے خبر دی کہ حضرت ابن عباس (رض) جوازِ متعہ کا فتویٰ دیا کرتے تھے، جب اہل علم نے اس پر طعن کیا تو ابن عباس (رض) نے انکار کردیا کہ اپنے اس فتویٰ سے رجوع کریں۔ حتیٰ کہ بعض شعراء ان کے متعلق یہ اشعار پڑھنے لگے : ” اے صاحب ! کیا تجھے ابن عباس کی نوجوان عورتوں میں کوئی حاجت ہے ! کیا تجھے ناز و نعمت والی تر خود میں حاجت ہے جو لوگوں کے کھیلنے تک تیرا ٹھکانا ہو۔ فرماتے ہیں : پھر اہل علم کا اس کی گندگی اور ان عورتوں سے بغض مزید بڑھ گیا حتیٰ کہ یہ اشعار کہے گئے۔