(۱۴۲۲۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ الْہَرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَضَی : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ نُکِحَتْ وَبِہَا شَیْء ٌ مِنْ ہَذَا الدَّائِ فَلَمْ یَعْلَمْ حَتَّی مَسَّہَا فَلَہَا مَہْرُہَا بِمَا اسْتَحَّلَ مِنْ فَرْجِہَا وَیَغْرَمُ وَلِیُّہَا لِزَوْجِہَا مِثْلَ مَہْرِہَا۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]
(١٤٢٢٣) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فیصلہ کیا کہ جس عورت کو ان بیماریوں میں سے کوئی بیماری ہو اور مرد جانتا نہ ہو لیکن ہمبستری کرلی تو اس کے عوض اس کے لیے حق مہر ہے اور شوہر اس عورت کے ولی پر حق مہر کے برابر چٹی ڈال سکتا ہے۔