(۱۴۲۲۹) وَرُوِیَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ الْہَرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَیُّمَا رَجُلٍ نَکَحَ وَبِہَا بَرَصٌ أَوْ جُنُونٌ أَوْ جُذَامٌ أَوْ قَرْنٌ فَزَوْجُہَا بِالْخِیَارِ مَا لَمْ یَمَسَّہَا إِنْ شَائَ أَمْسَکَ وَإِنْ شَائَ طَلَّقَ وَإِنْ مَسَّہَا فَلَہَا الْمَہْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِہَا۔
[صحیح۔ اخرجہ سعید بن منصور ۸۲۱]
(١٤٢٢٩) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : جس شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا وہ پھل بہری، دیوانگی، کوڑھ والی یا قرن والی ہو تو خاوند کو اختیار ہے جب تک اس کے ساتھ مجامعت نہ کی ہو۔ اگر چاہے تو روک لے چاہے تو طلاق دے دے۔ اگر مجامعت کرلی تو اس کے عوض حق مہر ادا کرنا ہے۔