(۱۴۲۳۰) قَالَ وَحَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّہُ قَالَ ذَلِکَ : إِذَا دَخَلَ بِہَا قَالَ وَإِنْ عَلِمَ بِذَلِکَ قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا فَإِنْ شَائَ أَمْسَکَ وَإِنْ شَائَ فَارَقَ بِغَیْرِ طَلاَقٍ۔ وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِذَا تَزَوَّجَ الْمَرْأَۃَ فَوَجَدَ بِہَا جُنُونًا أَوْ بَرَصًا أَوْ جُذَامًا أَوْ قَرْنًا فَدَخَلَ بِہَا فَہِیَ امْرَأَتُہُ إِنْ شَائَ أَمْسَکَ وَإِنْ شَائَ طَلَّقَ زَادَ فِیہِ وَکِیعٌ عَنِ الثَّوْرِیِّ إِذَا لَمْ یَدْخُلْ بِہَا فُرِّقَ بَیْنَہُمَا فَکَأَنَّہُ أَبْطَلَ خِیَارَہُ بِالدُّخُولِ بِہَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
(١٤٢٣٠) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ جب آپ کسی عورت سے نکاح کریں اور وہ عورت پھل بہری، دیوانگی، کوڑھ یا قرن والی ہو تو اس کے ساتھ دخول کرلیا تو شوہر چاہے رکھ لے یا طلاق دے دے، لیکن وکیع نے ثوری سے زیادہ بیان کیا ہے کہ اگر دخول نہ کیا تو دونوں کے درمیان تفریق کروا دی جائے، گویا کہ انھوں نے دخول کی وجہ سے اختیار کو بھی ختم کردیا ہے۔