(۱۴۲۳۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ بُکَیْرٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ مَوْلَی بَنِی ہَاشِمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ عَدْوَی وَلاَ یَحِلُّ الْمُمْرِضُ عَلَی الْمُصِحِّ لِیَحِلَّ الْمُصِحُّ حَیْثُ شَائَ ۔ قِیلَ : مَا بَالُ ذَلِکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : إِنَّہُ أَذًی ۔ [ضعیف]
(١٤٢٣٩) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور نہ ہی مریض کو تندرست کے پاس لانا جائز ہے تاکہ تندرست جہاں چاہے رہے، کہا گیا : اے اللہ کے رسول ! اس کی کیا وجہ ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تکلیف ہے۔