hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 14244

.

سنن البيهقي

14244
Sunan Al Bayhaqi
(۱۴۲۳۸) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ قَالَ أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَسَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ یُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَی الْمُصِحِّ ۔ فَقَالَ لَہُ الْحَارِثُ بْنُ أَبِی ذُبَابٍ الدَّوْسِیُّ : فَإِنَّکَ قَدْ کُنْتَ تُحَدِّثُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ عَدْوَی ۔ قَالَ : فَأَنْکَرَ ذَلِکَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ فَقَالَ الْحَارِثُ بَلَی قَدْ کُنْتَ تُخْبِرُنَا ذَلِکَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَتَمَارَی ہُوَ وَأَبُو ہُرَیْرَۃَ حَتَّی اشْتَدَّ مِرَاؤُہُمَا فَغَضِبَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ عِنْدَ ذَلِکَ فَرَطَنَ بِالْحَبَشِیَّۃِ ثُمَّ قَالَ لِلْحَارِثِ بْنِ أَبِی ذُبَابٍ : ہَلْ تَدْرِی مَاذَا قُلْتُ؟ فَقَالَ الْحَارِثُ : لاَ فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : فَإِنِّی قُلْتُ أَبَیْتُ یُرِیدُ بِذَلِکَ أَنِّی لَمْ أُحَدِّثْ کَمَا تَقُولُ۔ قَالَ أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثُمَّ أَقَامَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ عَلَی الَّذِی یُخْبِرُنَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی قَوْلِہِ : لاَ یُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَی الْمُصِحِّ ۔ وَتَرَکَ مَا کَانَ یُخْبِرُنَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی قَوْلِہِ : لاَ عَدْوَی ۔ فَقَالَ أَبُو سَلَمَۃَ : فَلاَ أَدْرِی أَنَسِیَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ مَا کَانَ یُخْبِرُنَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ عَدْوَی ۔ أَمْ مَا شَأْنُہُ غَیْرَ أَنِّی لَمْ أَبْلُ عَلَیْہِ کَلِمَۃً نَسِیَہَا بَعْدَ أَنْ یُحَدِّثُنَاہَا مَرَّۃً عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- غَیْرَ إِنْکَارِہِ مَا کَانَ یُحَدِّثُنَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی قَوْلِہِ : لاَ عَدْوَی ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِیِّ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ عَنْ شُعَیْبٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ مُخْتَصَرًا۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(١٤٢٣٨) حضرت ابوہریرہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرماتے ہیں کہ تندرست کے نزدیک مریض کو نہ لایا جائے، تو حارث بن ابی ذباب دوسی نے آپ سے کہا کہ آپ ہی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بیان کرتے ہیں کہ بیماری متعدی نہیں ہوتی تو حضرت ابوہریرہ (رض) نے انکار کردیا تو حارث بن ابی ذباب نے کہا : کیوں نہیں تم ہی تو بیان کرتے ہو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے۔ ابوہریرہ (رض) اور حارث کا جھگڑا بڑھ گیا تو ابوہریرہ (رض) غصے میں آگئے اور حبشی زبان میں بات کی۔ پھر حارث بن ابی ذباب سے کہنے لگے : میں نے کیا کہا تھا ؟ تو حارث نے کہا : مجھے یاد نہیں تو حضرت ابوہریرہ (رض) فرمانے لگے کہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں جیسے تم بیان کرتے ہی ہو ویسے میں نے نہیں کہا۔ ابو سلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ پھر حضرت ابوہریرہ (رض) نے کھڑے ہو کر ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان فرمایا کہ مریض کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے۔ لیکن لاعدویٰ والا قول جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان فرماتے تھے چھوڑ دیا، تو ابو سلمہ کہتے ہیں کہ مجھے علم نہیں کہ ابوہریرہ (رض) اس کلمہ کو بھول گئے ہیں، یعنی لا عدویٰ یا ان کی کیا حالت ہے ؟ لیکن بعد میں نے اس کی پروا نہیں کی جو وہ کلمہ بھول گئے۔ وہ بعض اوقات بغیر انکار کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کردیتے تھے۔